برقی شعبہ خسارہ سے دوچار ، 81 ہزار کروڑ کا قرض اور 62 ہزار کروڑ کے نقصانات

   

(برقی صورتحال پر اسمبلی میں وائیٹ پیپر پیش)
سابق حکومت کی پالیسیوں پر تنقید، پراجکٹس کی مالیت میں اضافہ، سرکاری اداروں سے
28 ہزار کروڑ کے بقایہ جات،خسارہ کے باوجود بہتر برقی سربراہی کاعہد: بھٹی وکرمارکا
حیدرآباد ۔21۔ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے ریاست میں برقی کی صورتحال پر قانون ساز اسمبلی میں وائیٹ پیپر پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ برقی اداروں کے قرض 81516 کروڑ تک پہنچ چکے ہیں اور نقصانات 31 اکتوبر 2023 ء تک 62461 کروڑ ہوچکے ہیں۔ برقی شعبہ کی صورتحال ابتر ہونے کے باوجود تلنگانہ حکومت زرعی شعبہ کو مفت برقی کی سربراہی اور دیگر شعبہ جات کو بہتر سربراہی کو یقینی بنانے کا عہد کیا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر برقی بھٹی وکرمارکا نے ایوان میں وائیٹ پیپر پیش کرتے ہوئے کہا کہ مالی خسارہ کے باوجود حکومت مکمل ذمہ داری اور شفافیت کے ساتھ چیلنجس کا سامنا کرے گی۔ بھٹی وکرمارکا نے 30 صفحات پر مشتمل وائیٹ پیپر میں برقی اداروں کی صورتحال اور برقی پیداوار کے موقف کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ برقی شعبہ کو نقصانات 30406 کروڑ کے ہیں اور سرکاری اداروں کی جانب سے پاور جنریشن اور سپلائی کمپنیوں کو 28673 کروڑ کے بقایہ جات ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے سرکاری اداروں کی جانب سے برقی بقایہ جات کی عدم اجرائی کے نتیجہ میں برقی شعبہ خسارہ سے دوچار ہے۔ جملہ بقایہ جات میں محکمہ آبپاشی کے بقایہ جات 14193 کروڑ ہیں۔ اس کے علاوہ سابق حکومت نے ڈسٹری بیوٹر کمپنیوں کو 14928 کروڑ کی ادائیگی کا وعدہ کیا تھا۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے وقت برقی کی پیداوار کی صلاحیت 7778 میگاواٹ تھی جو ڈسمبر 2023 ء تک بڑھ کر 19475 میگاواٹ ہوچکی ہے۔ سولار برقی تیاری کی صلاحیت صرف 74 میگاواٹ تھی جو گزشتہ 9 برسوں میں بڑھ کر 123 میگاواٹ ہوچکی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برقی سربراہی جاری رکھنے کیلئے ڈسٹری بیوشن کمپنیوں نے باقاعدگی کے ساتھ قرض حاصل کیا اور قرض کی مجموعی رقم میں روز افزوں اضافہ ہوا ہے ۔ ڈسٹری بیوشن کمپنیاں قرض کے جال میں پھنس چکی ہیں کیونکہ حکومت نے برقی شعبہ کو وعدہ کے مطابق ادائیگی نہیں کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2014 سے 2023 ء تک 20 سے زائد سرکاری محکمہ جات کی جانب سے برقی کے بقایہ جات میں اضافہ ہوا ہے ۔ محکمہ آبپاشی 92.04 کروڑ ، مشن بھگیرتا 3558 کروڑ ، پنچایت راج 4393 کروڑ ، حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس 3932 کروڑ ، میونسپلٹیز 1657 کروڑ ، کارپوریشن 53.68 کروڑ ، جی ایچ ایم سی 4.51 کروڑ ، وزارت داخلہ 27.69 کروڑ ، میڈیکل اینڈ ہیلت 48.42 کروڑ ، ریونیو 21.03 کروڑ ، اسکول ایجوکیشن 48.37 کروڑ ، ہائیر ایجوکیشن 40.43 کروڑ ، ٹراویل ویلفیر 6.55 کروڑ کے علاوہ مرکزی حکومت کے ادارے 720 کروڑ کی ادائیگی باقی ہیں۔ بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ ریاست کی ترقی کے لئے برقی شعبہ کا استحکام ضروری ہے۔ صنعتوں کو معیاری برقی کی سربراہی کے ذریعہ سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور روزگار کے مواقع بڑھیں گے ۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد بی آر ایس حکومت صرف ایک برقی پراجکٹ مکمل کیا۔ بھدرادری تھرمل پاور پراجکٹ کی صلاحیت 1080 میگاواٹ ہے۔ بھٹی وکرمارکا نے بتایا کہ چھتیس گڑھ سے برقی خریدی کا معاہدہ کیا گیا اور معاہدہ میں کئی خامیاں ہیں جس سے سرکاری خزانہ پر بوجھ میں اضافہ ہوا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے یادادری تھرمل پاور پراجکٹ کا حوالہ دیا جس کی تکمیل 2015 تک ہونی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ابتداء میں پراجکٹ کی مالیت 25099 کروڑ طئے کی گئی جو بڑھ کر 34543 کروڑ ہوچکی ہے۔ فی میگاواٹ برقی کی تیاری پر 8.64 کروڑ کا خرچ آئے گا۔ رپورٹ میں برقی پراجکٹس کی تعمیر میں تاخیر کیلئے سابق حکومت کو ذمہ دار قرار دیا گیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ سابق حکومت کی غلط پالیسیوں اور دور اندیشی کی کمی کے نتیجہ میں برقی شعبہ خسارہ سے دوچار ہے۔ ر