برقی شعبہ میں تلنگانہ کی کارکردگی ملک میں سرفہرست

   


زرعی شعبہ کو مفت برقی سربراہ کرنے والی واحد ریاست کا اعزاز
حیدرآباد 19 ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ نے 2014 ء کے بعد برقی شعبہ میں غیر معمولی ترقی کی اور برقی پیداوار کے معاملہ میں تلنگانہ ملک کی سرفہرست ریاست بن چکی ہے۔ حکومت سے ریاست میں برقی صورتحال پر تفصیلی نوٹ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ 2014 ء سے ریاست کے تمام شعبہ جات کو بلا وقفہ برقی سربراہ کی جارہی ہے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی مساعی کے نتیجہ میں تلنگانہ میں کسی بھی شعبہ میں برقی کٹوتی نہیں ہے جبکہ ملک کی دیگر ریاستوں میں زرعی اور دیگر شعبہ جات میں کٹوتی نافذ کی گئی ہے۔ حکومت نے 2014 ء کے بعد برقی شعبہ پر خصوصی توجہ مرکوز کی اور مناسب فنڈس جاری کئے ۔ زرعی شعبہ کو 24 گھنٹے مفت برقی سربراہ کرنے والی ملک کی واحد ریاست تلنگانہ نے کسانوں کو دی جانے والی رعایت کی پابجائی کی ہے۔ متحدہ آندھراپردیش نے موسم گرما کے دوران برقی کٹوتی عام بات تھی اور صنعتی شعبہ کیلئے پاور ہالی ڈے کا اعلان کیا جاتا رہا ۔ تلنگانہ تحریک کے دوران آندھرائی قائدین نے دعویٰ کیا تھا کہ علحدہ ریاست کی تشکیل کی صورت میں تلنگانہ تاریکی میں ڈوب جائے گی ۔ 2014 ء میں تلنگانہ میں فی کس برقی کی استعمال 1110 یونٹ تھا جو آج بڑھ کر 2012 یونٹ ہوچکا ہے۔ 2014 ء میں ریاست میں برقی کی صلاحیت 7778 میگاواٹ تھی جو آج بڑھ کر 17305 میگاواٹ ہوچکی ہے۔ ریاست نے سولار پاور جنریشن میں اضافہ کرتے ہوئے گزشتہ 8 برسوں میں 74 میگاواٹ کی صلاحیت کو 4478 میگاواٹ تک پہنچادیا ہے۔ حکومت سولار جنریشن میں مزید 4950 میگاواٹ کی گنجائش میں اضافہ کی تیاری کر رہی ہے جس کے نتیجہ میں ریاست میں برقی کی صورتحال مزید بہتر ہوجائیگی ۔ ر