برقی صورتحال پر حکومت کا وائیٹ پیپر جھوٹ کا پلندہَ: جگدیش ریڈی

   

سابق حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش، برقی صورتحال بہتر بنانے قرض حاصل کیا گیا
حیدرآباد ۔21۔ڈسمبر (سیاست نیوز) بی آر ایس نے برقی صورتحال پر اسمبلی میں حکومت إْ پیش کردہ وائیٹ پیپر کو حقائق سے بعید اور گمراہ کن قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ سابق حکومت کو بدنام کرنے غلط اعداد و شمار پیش کئے گئے۔ اسمبلی میں مباحث کا آغاز کرکے سابق وزیر برقی جگدیش ریڈی نے دعویٰ کیا کہ بی آر ایس حکومت نے ہر شعبہ کو معیاری برقی سربراہ کرنے قرض حاصل کیا تھا۔ قرض کی رقم برقی شعبہ کی ترقی پر خرچ کی گئی اور تلنگانہ برقی پیداوار میں خود مکتفی ہوچکا ہے۔ انہوں نے برقی اداروں کے استحکام اور صنعتی و گھریلو شعبہ کو بلا وقفہ سربراہی کو کے سی آر حکومت کا کارنامہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ریاستوں میں زرعی شعبہ کو 24 گھنٹے برقی نہیں ہے لیکن تلنگانہ حکومت نے وعدہ کی تکمیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں اور زرعی شعبہ کو 24 گھنٹے برقی کے معاملہ میں نیتی آیوگ نے تلنگانہ کو صد فیصد نشانات دیئے ہیں۔ جگدیش ریڈی نے برقی اداروں کے قرض کے حصول کو حق بجانب قرار دیا اور کہا کہ اداروں نے منافع حاصل ہونے کے بعد قرض کا کچھ حصہ چکادیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرض حاصل کئے بغیر کسی ریاست کی ترقی ممکن نہیں ہے۔ کانگریس حکومت بی آر ایس دور کے قرضہ جات کو منفی انداز میں پیش کر رہی ہے۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ ایک روپیہ قرض حاصل کئے بغیر ہر شعبہ کو 24 گھنٹے برقی سربراہ کرکے اپنے وعدوں کی تکمیل کریں۔ انہوں نے کہاکہ بی آر ایس وعدوں کی تکمیل میں حکومت سے مکمل تعاون کرے گی۔ تلنگانہ کی تشکیل کے وقت کسانوں کی حالت انتہائی ابتر تھی۔ خودکشی میں اضافہ ہوچکا تھا۔ بی آر ایس نے زرعی شعبہ کو بحران سے بچالیا اور خودکشی کے واقعات پر قابو پایا گیا۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد بہتر مانسون کے نتیجہ میں برقی کے ہائیڈل جنریشن میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی کسی حکومت میں کسانوں کو 24 گھنٹے برقی سربراہی کا نظم نہیں ہے۔ کرناٹک میں کسان کانگریس حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں ۔ جگدیش ریڈی نے ریمارک کیا کہ تلگو دیشم جب برسر اقتدار تھی تو آج کے ڈپٹی چیف منسٹر کی پارٹی کانگریس نے دھرنا اور راستہ روکو احتجاج کیا تھا ۔ جس وقت کانگریس برسر اقتدار تھی ، چیف منسٹر کی پارٹی نے برقی کی صورتحال پر احتجاج کیا تھا۔ جگدیش ریڈی نے چیف منسٹر کی جانب سے مختلف پارٹیوں کی تبدیلی کا حوالہ دیا۔ انہوں نے چھتیس گڑھ سے برقی خریدی معاہدہ کو حق بجانب قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد اور ریاست کے کسی بھی علاقہ میں برقی کٹوتی کا کوئی تصور نہیں ہے۔

جگدیش ریڈی کو عدالتی تحقیقات کا چیلنج مہنگا پڑا
ریونت ریڈی نے اعلان کرتے ہوئے حیرت میں ڈال دیا
حیدرآباد 21ڈسمبر (سیاست نیوز) سابق وزیر برقی جگدیش ریڈی کا حکومت کو چیلنج مہنگا پڑا جبکہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے برقی کے تین معاملات میں عدالتی تحقیقات کا اعلان کردیا۔ اسمبلی میں برقی صورتحال پر وائیٹ پیپر پر مباحث میں ریاستی وزیر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے زرعی شعبہ کو برقی سربراہی اور دیگر معاملات میں جگدیش ریڈی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے بعض پراجکٹس میں بے قاعدگیوں کا الزام عائد کرکے یہاں تک کہہ دیا کہ جگدیش ریڈی بھی کرپشن میں ملوث ہیں۔ الزامات سے برہم جگدیش ریڈی نے حکومت کو پیشکش کیا کہ وہ ہائی کورٹ کے برسر خدمت جج یا پھر علحدہ تحقیقاتی کمیشن سے جانچ کرائیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ تحقیقات حکومت کی صوابدید پر چھوڑتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ تحقیقات کرکے جو بھی قصوروار ہوں ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ جگدیش ریڈی کے عدالتی تحقیقات کے چیلنج پر چیف منسٹر ریونت ریڈی نے پراجکٹس اور برقی خریدی معاہدہ کی عدالتی تحقیقات کا اعلان کردیا ۔ جیسے ہی چیف منسٹر نے تحقیقات کا اعلان کیا کہ بی آر ایس کی صفوں میں سناٹا چھا گیا۔