برکس ممالک کو مستقبل کے موافق نقل و حمل سسٹم کیلئےمل کر کام کرنا ہوگا: گڈکری

   

نئی دہلی۔ 11 جولائی (یو این آئی) سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے وزیر نتن گڈکری نے برکس گروپ میں پائیدار، محفوظ، جامع اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق ٹرانسپورٹ کا نظام تیار کرنے کیلئے باہمی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تمام ممالک سے مل کر کام کرنے کی اپیل کی ہے ۔ گڈکری نے ناگپور میں برکس ممالک کے وزرائے ٹرانسپورٹ کی تیسری میٹنگ کا افتتاح کرتے ہوئے ہفتہ کو کہا کہ میٹنگ میں غور و خوض کیلئے ٹرانسپورٹ کے نظام کا جو ایجنڈا تیار کیا گیا ہے ، وہ اہم ہے کیونکہ بدلتی ہوئی معیشتوں کیلئے ٹرانسپورٹ مستقبل کا سب سے بڑا چیلنج ہے اور اس چیلنج پر گروپ کے تمام ممالک کا مل کر توجہ دینا لازمی ہو گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کے درمیان ٹرانسپورٹ کے شعبے میں تعاون کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ برکس ممالک میں معیشتیں تیزی سے بدل رہی ہیں اور بدلتی ہوئی معیشتوں کے درمیان اس گروپ میں جدت طرازی ، شراکت داری اور مشترکہ ذمہ داری کے ذریعہ پورے عالمی ٹرانسپورٹ نظام کی سمت طے کرنے کی صلاحیت ہے ۔ ناگپور میں ہندستان کی صدارت میں منعقدہ تیسری برکس وزرائے ٹرانسپورٹ کی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے گڈکری نے کہا کہ ہندستان کی برکس صدارت کا موضوع ’بلڈنگ فار ریزیلیئنس، انوویشن، کوآپریشن اینڈ سسٹینبلٹی ہے ، جو وسودھیو کٹمبکم کے جذبے اور ’انسانیت اول‘کے نقطہ نظر سے متاثرکن ہے ۔
ہمارے صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے ، عمر عبداللہ کا انتباہ
سری نگر۔ 11 جولائی (یو این آئی) جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز مرکز پر یہ الزام لگایا کہ وہ مرکزکے زیرِ انتظام علاقے کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کے اپنے وعدے میں تاخیر کر رہا ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی حکومت کے صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے ۔نیشنل کانفرنس کے بانی شیخ محمد عبداللہ کی اہلیہ بیگم اکبر جہاں عبداللہ، جنہیں پارٹی کارکن ‘مادرِ مہربان’ کے نام سے یاد کرتے ہیں، کی برسی کے موقع پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے ابتدائی طور پر مرکز کے ساتھ بات چیت کا راستہ اس امید پر چنا تھا کہ وہ ریاست کا درجہ بحال کرنے کے اپنے عزم کا احترام کرے گا۔ اپنی دادی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے ان سے جو سب سے بڑا سبق سیکھا ہے وہ صبر ہے ، باوجود اس کے کہ انہوں نے کئی سیاسی بحران دیکھے ، جن میں شیخ عبداللہ کی قید، 1984 میں نیشنل کانفرنس کی تقسیم اور 1990 کی دہائی کی ہنگامہ آرائی شامل ہیں۔