نئی دہلی: رمضان المبارک کے مہینے اور جمعتہ الوداع کے موقعہ اویس خان ابھی شام کی نماز ختم کررہے تھے جب انہیں اطلاع دی گئی کہ وہ اگلے ماہ ہندوستانی ٹسٹ ٹیم کے ساتھ بطور اسٹینڈ بائی کھلاڑی کے طور پر انگلینڈ جائیں گے۔اویس کی عمر ابھی 24 ہے لیکن وہ جنوری 2018 سے بطور نیٹ بولر ہندوستانی ٹیم کے ساتھ سفرکر رہے ہیں۔ اس بار وہ جانتے ہیں کہ موقع ملنے پر فٹ ہونے کے لئے انہیں اگلے ساڑھے تین مہینوں میں بہترین حالت میں ہونا پڑے گا۔ انہوں نے دیکھا ہے کہ کس طرح ان فٹ کھلاڑیوں کو آسٹریلیا جارکرمایوس ہونا پڑا تھا۔ہندوستان کے ابھرتے فاسٹ بولر اویس خان جنہیں انگلینڈ کے ٹسٹ دورہ کے لئے ہندوستانی اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے اور وہ ٹیم کے ساتھ سفر کریں گے ۔ ہندوستان کے ساتھ انگلینڈ کے سفر کے لئے منتخت ہونے والے اویس خان اس مرتبہ کافی پرعزم ہے اور کہا ہیکہ 2021 میں انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) میں ان کی کارکردگی نے انہیں کافی اعتماد فراہم کیا ہے۔تاہم پچھلے سال نے اویس کے لئے حالات مزید بہتری کی مانگ کررہے تھے لیکن اس سال کے آئی پی ایل میں وہ ایک بہتری پیدا کرنے والے فاسٹ بولر بن کر ابھرے ہیں اویس خان نے وبائی مرض کورونا اور لاک ڈاؤن کے دوران زندگی کو مختلف زاویوں سے دیکھا ہے ۔اویس خان نے کہا ہے کہ میں ان گھریلو کھلاڑیوںکے حالات کو محسوس کرتا ہوں جن کے پاس رانجی ٹرافی مقابلے بھی نہیں تھے۔ میرے پاس آئی پی ایل کا معاہدہ تھا جو بحران کے دنوں میں آمدنی کا ایک ذریعہ تھا لیکن بہت سے ایسے کھلاڑی ہیں جن کی نوکری چلی گئی تھی اور وہ جو رانجی ٹرافی سے حاصل ہونے والی آمدنی پرانحار کرتے ہیں ان کے لئے حالات مشکل ہوگئے تھے ۔ اویش نیکہا کہ مجھے احساس ہوا ہے کہ میں برکت پا رہا ہوں اور مجھے جو مواقع مل رہے ہیں اس میں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا ہوگا۔اویس اور اس کے اہل خانہ نے تارکین وطن مزدوروں کو کھانا کھلانا شروع کیا تھا جو گذشتہ سال لاک ڈاؤن میں کافی پریشان تھے۔ ہم ٹی وی پر مناظر دیکھ رہے تھے اور مزدور بہت تکلیف میں تھے۔ میرے والد نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان بے بس لوگوں کی مدد کرنے کے لئے کافی کچھ دیا ہے۔ ہم نے شاہراہ پر جاکر انہیں غذائی اشیاء اور پانی کی بوتلیں دینے کا فیصلہ کیا ہے جو انہیں کم از کم ایک دن کی خوراک فراہم کرسکتے تھے ۔اویس نے مزید کہا کہ ان کے بچپن کے کوچ اور ہندوستان کے سابق اوپنر امئے خراسیا نے فون کیا اور دورۂ انگلینڈ کی اطلاع دی اور کہا کہ میں محفوظ رہنے کی کوشش کروں اور یہ یقینی بناؤں کہ میرے دورہ انگلینڈ پر چلے جانے کے بعد اہل خانہ صحت مند رہ سکیں۔گزشتہ دو رانجی ٹرافی میں شاندار مظاہروں کے علاوہ تین سال سے انڈیا اے ٹور میں بھی شاندار مظاہرے کرنے والے اویس خان نے کہا کہ اس مرتبہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ٹریننگ جاری رکھنا مشکل ہوگیا تھا اور بغیر ٹرینگ کے فٹنس برقرار رکھنا ناممکن تھا لیکن کرئیر کو شاندار راہ پر گامزن کرنے کیلئے کچھ قربانیاں دینا بھی ضروری تھا جس میں بریانی سے دوری اختیار کرنا بھی شامل ہے۔مجھے احساس ہوگیا تھا کہ آئی پی ایل میں بہتر مظاہروں کے لئے مجھے اپنی فٹنس پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے جس کیلئے میں نے منصوبہ بنایا جس میں سب سے پہلے بریانی ترک کرنا مشکل ترین فیصلہ تھا۔ فٹسن حاصل کرنے کیلئے میں نے ایک پرسنل ڈائیٹشین کی خدمات حاصل کیں۔جنہوں نیمجھے معمول کی ڈائیٹ پر رکھ دیا ہے۔ میں اب ہر چیز کا منصوبہ بنا رہا ہوں۔ میں نے پچھلے تین مہینوں میں6 کلو وزن کم کیا ہے اور اس سے میری فٹنس میں مدد ملی ہے۔ پرسنل ڈائیٹشین نے رمضان المبارک کے دوران مجھے تھوڑی بہت آزادی دی ہے تاکہ میں روزے رہنے کے بعد کچھ اچھا کھا سکوں جس میں بریانی اورحلیم بھی شامل ہے ۔اویس نے کہا ہے کہ وہ طویل ترین دورہ انگلینڈ کیلئے پوری طری تیار ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ گزشتہ تین سال سے نیٹ بولر کا انکا تجربہ انکے کام آئے گا اور وہ بھی جانتے ہیں کہ اس دورہ پر کوئی مستقل بولر زخمی ہوتا ہے یہ کسی اور وجہ سے ٹیم میں بولر کی جگہ خالی ہوتی ہے تو اصل ٹیم کا بھی حصہ بن سکتے ہیں۔