مذہبی الفاظ اور تہذیبی روایات کو نفرت کے بجائے باہمی احترام اور قومی یکجہتی کے طور پر دیکھا جائے
(سید جلیل ازہر)
نرمل ۔ 18 ستمبر : ایک جمہوری اور کثیرالمذاہب ملک کی خوبصورتی اس کے تنوع، برداشت اور باہمی احترام میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ ہندوستان کی تہذیبی شناخت بھی صدیوں سے مختلف مذاہب، زبانوں، ثقافتوں اور روایات کے باہمی میل جول سے تشکیل پائی ہے۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ کیا کسی سرکاری عہدے پر فائز شخص کی زبان سے اپنی مذہبی تہذیب کے عام اور مانوس الفاظ ادا ہوجائیں تو وہ قابلِ اعتراض بن جاتے ہیں؟ حالیہ دنوں میں آئی پی ایس افسر بشریٰ بانو سے متعلق واقعہ نے اسی سوال کو پھر قومی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بشریٰ بانو نے سول سروس کے امیدواروں کی حوصلہ افزائی کے لیے جاری ایک ویڈیو میں ’’السلام علیکم‘‘، ’’ان شاء اللہ‘‘ اور ’’جزاک اللہ‘‘ جیسے الفاظ استعمال کیے۔ ایک تنظیم نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے شکایت درج کرائی، جبکہ اس کے فوراً بعد ان کا تبادلہ کھڑگپور کی ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی حیثیت سے ریاستی مسلح پولیس کی چوتھی بٹالین میں ڈپٹی کمانڈنٹ کے عہدے پر کردیا گیا۔ تاہم سرکاری حکم میں اسے ’’عوامی مفاد‘‘ میں انتظامی تبادلہ قرار دیا گیا ہے۔ بشریٰ بانو کا آئی پی ایس تک پہنچنا معمولی کامیابی نہیں۔ ایک خاتون کا سخت مقابلے کے امتحان سے گزر کر ملک کی اعلیٰ پولیس سروس میں مقام حاصل کرنا نہ صرف اس کی ذاتی جدوجہد بلکہ اس کے خاندان اور معاشرے کے لیے بھی باعثِ افتخار ہے۔ ایسے افسران نوجوانوں کے لیے یہ پیغام بنتے ہیں کہ محنت، عزم اور تعلیم کے ذریعے انسان اپنی منزل حاصل کرسکتا ہے۔ زبان انسان کی شناخت کا ایک حصہ ہے، جرم نہیں۔ اگر کوئی شخص ’’ان شاء اللہ‘‘ کہتا ہے تو اس کا مطلب اللہ کی مشیت پر یقین کا اظہار ہے، جبکہ ’’جزاک اللہ‘‘ کسی کے لیے خیر اور اجر کی دعا ہے۔ اسی طرح ’’السلام علیکم‘‘ امن و سلامتی کی دعا پر مبنی ایک معروف اسلامی سلام ہے۔ ان الفاظ کو محض مذہبی شناخت کی بنیاد پر تنازع کا موضوع بنانا سماج میں غیر ضروری فاصلے پیدا کرسکتا ہے۔ علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے:’’مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا: ہندی ہیں ہم، وطن ہے ہندوستان ہمارا‘‘ جمہوریت صرف ووٹ دینے کا نام نہیں بلکہ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے عقائد، زبان اور اظہارِ خیال کا احترام کرنے کا نام بھی ہے۔ ہندوستان جیسے متنوع ملک میں ضرورت اس بات کی ہے کہ مذہبی الفاظ اور تہذیبی روایات کو نفرت کا ذریعہ بنانے کے بجائے باہمی احترام اور قومی یکجہتی کے وسیلے کے طور پر دیکھا جائے۔ بشریٰ بانو کے معاملے میں اصل ضرورت جذباتی فیصلوں کے بجائے شفافیت کی ہے۔ اگر تبادلہ واقعی معمول کی انتظامی کارروائی ہے تو سرکاری وضاحت عوام کے سوالات کا جواب دے سکتی ہے؛ اور اگر کسی شکایت نے اس بحث کو جنم دیا ہے تو اس پورے معاملے کو قانون، آئینی اقدار اور انتظامی اصولوں کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔آخر میں سوال صرف بشریٰ بانو کا نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی مزاج کا ہے: کیا ہم ایک ایسے معاشرے کی تشکیل چاہتے ہیں جہاں مختلف مذاہب کے لوگ اپنے اپنے تہذیبی الفاظ کے ساتھ بھی عزت اور آزادی سے زندگی نہیں گزار سکیں؟نفرت کی دیواریں معاشروں کو تقسیم کرتی ہیں، جبکہ برداشت دلوں کو جوڑتی ہے۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ اختلاف کو دشمنی نہ بننے دیا جائے اور مذہبی شناخت کو نفرت نہیں بلکہ انسانیت، امن اور باہمی احترام کا ذریعہ بنایا جائے۔