ریاست میں 56 لاکھ ناموں کی نشاندہی، 10 اگست کے بعد نوٹس کی اجرائی
حیدرآباد 4 اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ میں جاری فہرست رائے دہندگان پر خصوصی نظرثانی سے متعلق SIR مہم میں اضلاع عادل آباد اور نظام آباد میں نقائص سے پُر اور نامکمل اینومریشن فارمس کے معاملہ میں سرفہرست ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں اضلاع کے شہری علاقوں میں جو فارمس داخل کئے گئے اُن میں زیادہ تر فارمس نامکمل پائے گئے جس پر بوتھ لیول آفیسرس نے اُنھیں مشتبہ زمرہ میں رکھا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ شمالی تلنگانہ کے بیشتر اسمبلی حلقہ جات میں الیکشن کمیشن کے حکام کو نقائص سے پُر فارمس کا سامنا ہے۔ تلنگانہ کے 3.38 کروڑ رائے دہندوں میں 5627534 ناموں کی تفصیلات نامکمل ہے جو مجموعی فہرست میں 16.6 فیصد ہوتے ہیں۔ عادل آباد اسمبلی حلقہ کے 250393 رائے دہندوں میں 76193 کی تفصیلات نامکمل ہیں۔ چیف الیکٹورل آفیسر سدرشن ریڈی کے مطابق 10 اگست فارمس کے ادخال اور ڈیجٹلائزیشن کی آخری تاریخ ہے۔ ایسے فارمس جن میں تفصیلات نامکمل ہیں اُنھیں 10 اگست کے بعد نوٹس جاری کی جائے گی اور اُنھیں ضروری دستاویزات پیش کرنے ہوں گے۔ نارائن کھیڑ اسمبلی حلقہ میں 29.3 فیصد رائے دہندوں کی تفصیلات نامکمل اور نقائص سے پُر ہیں جبکہ نرمل اسمبلی حلقہ میں یہ تعداد 28.2 فیصد درج کی گئی۔ شادنگر میں 28.1 فیصد، جکل 27.8 فیصد، نظام آباد رورل 27.7 فیصد، آرمور 27.7 فیصد اور نظام آباد اربن کے 27.6 رائے دہندوں کی تفصیلات نامکمل پائی گئیں۔ مہیشورم اسمبلی حلقہ میں 80593 رائے دہندوں کی تفصیلات نامکمل پائی گئی ہیں جبکہ ظہیرآباد اسمبلی حلقہ میں 76229 ناموں کی توثیق باقی ہے۔ الیکشن کمیشن نے بوتھ لیول آفیسرس کو ہدایات جاری کی ہیں کہ مکمل تفصیلات کی صورت میں ہی فارمس کا ڈیجٹلائزیشن کیا جائے۔ نقائص کی صورت میں رائے دہندوں کو نوٹس جاری کی جائے گی اور دعوے اور اعتراضات کی پیشکشی کے لئے بھی مہلت دی جائے گی۔V/k/i/1