بلقیس بانو کیس میں گجرات حکومت کا کھوکھلا جواب

   

مجرموں کی رہائی کی ٹھوس وجوہات نہیں ،سماعت 29 نومبر تک ملتوی
نئی دہلی : سپریم کورٹ نے آج کہاکہ بلقیس بانو کیس کے 11 مجرمین کی سزا ختم کرتے ہوئے اُن کی رہائی کے جواز کو چیلنج کرتے ہوئے داخل کردہ عرضیوں پر حکومت گجرات کا جواب بظاہر کافی ضحیم ہے لیکن اِس میں حقائق پر مبنی بیانات اور حکومت کے فیصلے کے ٹھوس وجوہات کا فقدان ہے۔ اِس کی بجائے ریاستی حکومت نے سلسلہ وار فیصلوں کا حوالہ دینے پر اکتفا کیا ہے۔ جسٹس اجئے رستوگی کی قیادت والی بنچ نے زبانی طور پر کہاکہ اُنھیں ایسا کوئی حلفنامہ دیکھنے میں نہیں ملا جہاں مجرموں کی رہائی کے حق میں ٹھوس وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ عدالت نے بلقیس بانو گینگ ریپ کیس کے مجرمین کی رہائی کی اگلی سماعت 29 نومبر پر ڈال دی۔ گجرات حکومت نے 15 اگست کو 2022 کے گودھرا فسادات کے دوران پیش آئے بلقیس بانو اجتماعی عصمت ریزی کیس کے 11 مجرمین کو رہا کیا تھا۔جسٹس اجے رستوگی اور جسٹس سی ٹی روی کمار پر مشتمل بنچ نے ہدایت دی کہ گجرات حکومت کی طرف سے داخل کیا گیا جواب تمام فریقوں کو فراہم کیا جائے۔ عدالت نے گجرات حکومت اور ملزمین کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ مقدمہ میں شامل تمام وکلاء کو جوابی حلف نامے کی کاپیاں فراہم کریں۔ گجرات حکومت نے کہا کہ مجرموں کو مرکزی وزارت داخلہ کی منظوری کے بعد ہی رہا کیا گیا۔