بنجارہ ہلز کے ڈی اے وی اسکول کی مسلمہ حیثیت ختم ‘ وزیر تعلیم

   

کمسن طالبہ سے دست درازی کے بعد کارروائی ۔ لڑکی کے والدین کی ریونت ریڈی سے ملاقات
حیدرآباد /21 اکٹوبر ( سیاست نیوز ) ڈی اے وی اسکول بنجارہ ہلز میں کمسن لرکی پر جنسی حملہ کا معاملہ زور پکڑتا جارہا ہے ۔ اس معاملہ میں گرفتاریوں کے باوجود اولیائے طلبہ اپنے بچیوں کی سلامتی کے تعلق سے فکرمند ہیں ۔ آج صفیلگوڑ ہ میں ڈی اے وی اسکول پر اولیائے طلبہ نے زبردست احتجاج کیا ۔ اولیائے طلبا کے احتجاج کو دیکھتے ہوئے پولیس کو مداخلت کرنی پڑی اور اسکول انتظامیہ نے صفیل گوڑہ شاخ ڈی اے وی اسکول کے پرنسپل پارتھی پن کو معطل کردیا ۔ پارتھی پن صفیل گوڑہ کے علاوہ بنجارہ ہلز شاخ کے بھی انچارج پرنسپل کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے ۔ حکومت نے اسکول کے خلاف سخت اقدامات کا آغاز کردیا ہے اور وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی نے اسکول کی مسلمہ حیثیت کو منسوخ کرنے کے احکامات جاری کردئے تو دوسری طرف متاثرہ بچی کے والدین صدرپردیش کانگریس تلنگانہ ریونت ریڈی سے ملاقات اور اسکول ا نتظامیہ کے علاوہ خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کیلئے دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا ۔ڈی اے وی اسکول بنجارہ ہلز میں کمسن بچی پر جنسی حملہ کے بعد سماج میں اسکول انتظامیہ کے خلاف سخت برہمی ظاہر کی جارہی ہے ۔ سفیل گوڑہ ڈی اے وی شاخ پر احتجاج کرنے والے بچوں کے والدین نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور پرنسپل پارتھی پن کو احتجاج کے سبب انتظامیہ کے خدمات سے ہٹادیا گیا ۔ اولیائے طلبہ اپنے بچیوں کی سلامتی کے تعلق سے فکر مند ہوکر سفیل گؤرہ اسکول پہونچے جہاں پرنسپل نے جو بنجارہ ہلز شاخ کا بھی انچارج ہے ۔ ان سے قلامتی کے تعلق سے سوالات کئے تاہم پرنسپل کا غیر ذمہ دارانہ رویہ اور مبینہ بدسلوکی نے والدین کے غصہ کو بڑھا دیا ۔ اور اولیائے طلبہ احتجاج پر اتر آئے اولیائے طلبہ کے احتجاج کو دیکھتے ہوئے پارتھی پن کو عمارت میں چھپادیا گیا ۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے پولیس کو مداخلت کرنی پڑی اور اسکول انتظآمیہ نے پرنسپل کو برخواست کردیا ۔ ڈی اے وی اسکول کے ملک بھر میں شاخیں پائی جاتی ہیں اور ان اسکولس میں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ زیر تعلیم ہے۔ جو اب اپنے بچوں کی سلامتی کے تعلق سے تشویش کا شکار ہیں ۔ ع