بنڈی سنجے کی یاترا کے جلسہ عام میں شرکاء کی تعداد معلوم کرنے کی کوشش

   

مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ سے مس کال مہم، تلنگانہ میں بی جے پی مستحکم ہونے کا دعویٰ

حیدرآباد۔15 مئی(سیاست نیوز) بنڈی سنجے کی پرجا سنگرام یاتراکے جلسہ عام کے دوران مرکزی وزیر داخلہ کی جانب سے ’’مس کال‘‘ کے ذریعہ جلسہ کے شرکاء کی تعداد معلوم کرنے کی کوشش کی گئی ! بھارتیہ جنتا پارٹی قائدین کے علاوہ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہناہے کہ مرکزی وزیر داخلہ نے پرجا سنگرام یاتراکے دوران شرکاء سے مس کال کی اپیل کرتے ہوئے جلسہ میں شریک ہونے والوں کی تعداد کا پتہ چلانے کی کوشش کی ہے۔ بی جے پی کی جانب سے پرجا سنگرام یاتراکے دوسرے مرحلہ کے اس جلسہ عام میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی شرکت کے فیصلہ کے بعد جلسہ کو کامیاب بنانے کی ممکنہ کوشش کی جا رہی تھی اور دعوے کئے جا رہے تھے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اس جلسہ عام میں 5لاکھ سے زائد شرکاء کی شرکت کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں لیکن جلسہ عام کے دوران ریاستی جنرل سیکریٹری بھارتیہ جنتا پارٹی ڈی پردیپ کمار نے جلسہ عام میں اعلان کیا کہ جلسہ گاہ پہنچنے والے بھارتیہ جنتا پارٹی کے حامیوں کی گاڑیوں کو مختلف مقامات پر روکا جا رہاہے اور پولیس کی مدد سے حکومت جلسہ کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ مسٹر ڈی پردیپ کمار کے اس اعلان کے بعد مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے انتباہ دیا کہ اگر روکی گئی گاڑیوں کو جلسہ گاہ پہنچنے نہیں دیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں جلسہ گاہ کے شرکاء جلسہ کے اختتام کے بعد ڈی جی پی آفس پہنچیں گے۔ ان کے انتباہ کے بعد گاڑیوں کو چھوڑا گیا یا نہیں اس بات کا تو پتہ نہیں چلا لیکن کہا جا رہاہے کہ بنڈی سنجے کی پرجا سنگرام یاترا کی تائید کے لئے جو ’’مس کال ‘‘ کرنے کے لئے امیت شاہ نے نمبر دیا وہ دراصل جلسہ کے شرکاء اور بی جے پی کی تائید کرنے والوں کے اعداد و شمار کا اندازہ لگانے کی کوشش تھی ۔ م