بنگال میں اسکول کھولنے سے متعلق مفاد عامہ عرضی دائر

   

کلکتہ : کلکتہ ہائی کورٹ میں طلبا تنظیم اے آئی ایس ایف نے عرضی دائر کرکے کہا ہے کہ جب حکومت نے ریاست میں میلہ ، جلسے جلسوس اور دیگر سرگرمیوں کے انعقاد کی اجازت دے سکتی ہے تو پھر اسکول کھولنے کی اجازت کیوں نہیں دے رہی ہے ۔ آل انڈیا اسٹوڈنٹ فیڈریشن نے مطالبہ کیا ہے کہ ریاستی حکومت اسکول کھولنے سے متعلق مخصوص پالیسی بنائے ۔اس سے قبل، منگل کوبھی مفاد عامہ کی عرضی دائر کرکے معمول کی پڑھائی دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ یہ مقدمہ سیون بنرجی نے دائر کیا تھا۔ جمعرات کو ایک اور مقدمہ دائر کیا گیا ہے ۔مدعی کے وکیل نے کہا کہ اگر حکومت جلسے ، میلے ، کھیل کے مقابلے کی اجازت دے سکتی ہے تو پھرا سکول کیوں نہیں کھلیں گے ؟۔ مدعی کے وکیل راجنیل مکھرجی نے بتایا کہ کیس کی سماعت چیف جسٹس کی عدالت میں ہونے کا امکان ہے ۔ریاستی وزیر تعلیم برتیا باسو نے حال ہی میں اپنے ایک پوسڑ میں کہا ہے کہ، ‘‘ہم اسکول کھولنا چاہتے ہیں۔ ریاست میں کووڈ کی صورتحال کا روزانہ جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ وزیر اعلیٰ کی مشاورت اور ان کی ہدایات کے مطابق مناسب وقت پر فیصلہ کیا جائے گا۔