بوتسانا میں سینکڑوں ہاتھیوں کی مردہ دستیابی

,

   

گبرون۔ ایک میڈیا رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ بوتسانا میں پچھلے دو ماہ کے دوران سینکڑوں ہاتھیوں کی ”مکمل طور پر غیر متوقع“ ہلاکتوں کو پراسراری نے گھیر لیاہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ ان ہاتھیوں کی موت کیوں ہوئی ہے‘ لیپ کے نتائج سامنے آنے تک ہفتے لگے گیں‘ چہارشنبہ کے روز بی بی سی نے حکومت کے حوالے سے اپنی خبر میں جانکاری دی ہے۔

بوتسانا افریقہ کا تیسری آبادی ہے جہاں پر ہاتھیوں کی تعداد گھٹ رہی ہے۔ یوکے نژاد امدادی قومی پارک بچاؤ کے نیل میکن نے بی بی سی کو بتایاکہ ان کے ساوتھ افریقی ملک کے ساتھیوں نے مئی کے آغاز پر اوکا ونگوڈیلٹا میں 350سے زائد مردہ ہاتھیوں کے باقیات دیکھے ہی

مئی کی ابتداء میں حکومت نے مقامی ذمہ داران کو ڈیلٹا سے پہلے فلائٹ گذرنے کے فوری بعد آگاہ کیاتھا۔انہوں نے بی بی سی کو بتایاکہ”تین گھنٹوں کی اڑان میں انہوں نے 169کو موقع پر دیکھا تھا۔تین گھنٹوں کی پرواز میں اس قدر تعداد کا مشاہدہ غیر معمولی ہے۔

ایک ماہ بعد اور باقیات مزید تحقیقات میں سامنے ائے جس کے بعد یہ تعداد350تک پہنچ گئی ہے۔ ہاتھیوں کی اموات میں یہ تعداد نہایت غیر متوقع ہے جو ایک ہی وقت میں قحط سالی کے بغیر مررہے ہیں“۔

اس بات کو نوٹ کرتے ہوئے کہ ٹاسک کو نہیں ہٹایاگیا ہے کہ مئی میں بوتسانا حکومت نے ایک وجہہ سے شکارکوختم کردیاتھا۔ یہاں پر شکار کے علاوہ کوئی اور بات نظر آرہی ہے۔میکن نے بی بی سی سے کہاکہ ”یہاں پر صرف ہاتھی مررہے ہیں او رکوئی بات نہیں“۔

انہوں نے مزید کہاکہ ”اگر شکاریوں کی طرف سے کوئی زہر کا استعمال کیاگیا ہے تو آپ کو دیگر اموات بھی دیکھائی دیں گے“۔انہوں نے قدرتی زہر انتھراکس کو بھی درکنار کیاہے جس کی وجہہ سے پچھلے سال بوتسانا میں 100ہاتھی ہلاک ہوئے تھے