بورویلز کی کھدائی کیلئے تحصیلدار کی اجازت لازمی

   

ذخائر آب سے متعلق قوانین پر بھی سختی سے عمل آوری کا فیصلہ
حیدرآباد۔31۔اکٹوبر(سیاست نیوز) ریاست میں حکومت کی جانب سے خشک سالی سے نمٹنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات اور بورویلس کی کھدوائی پر عائد کئے جانے والے امتناع کے بعد ابWALTA قوانین یعنی ذخائر آب سے متعلق قوانین پر سختی سے عمل آوری کا فیصلہ کیاگیا ہے اورپینے کے پانی یا دیگر استعمال کے لئے بورویلس کی کھدوائی کے لئے تحصیلدار سے لازمی اجازت حاصل کرنے کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیاگیا ہے ۔ بتایاجاتاہے کہ دونوں شہرو ں حیدرآباد وسکندرآباد کے حدود میں مختلف گنجان آبادیوں میں بھی مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد‘ محکمہ مال کے علاوہ دیگر متعلقہ محکمہ جات بالخصوص محکمہ آبرسانی کے عہدیداروں کی جانب سے بورویلس کی کھدوائی پر نظر رکھی جا رہی ہے۔WALTA قوانین کے مطابق گھریلو استعمال کے لئے بورویل کی کھدوائی کے لئے پیشگی اجازت حاصل کرنے کا لزوم پہلے سے موجود ہے لیکن کئی مقامات پر ان قوانین پر مؤثر عمل آوری کے بجائے لاپرواہی سے کام لیا جاتا تھا لیکن اب گھریلو استعمال کے لئے بھی بورویل کی کھدوائی کے لئے لازمی اجازت کے حصول کو یقینی بنانے کے اقدامات اور قانون پر سختی سے عمل آوری کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق بوریل کی کھدوائی سے متعلق تمام قوانین پر سختی سے عمل آوری کے اقدامات کی عہدیداروں کو ہدایت دیئے جانے کے بعد جہاں کہیں بورویل کی کھدوائی کا عمل جاری ہے عہدیداروں نے پہنچ کر اجازت ناموں کے متعلق دریافت کرنا شروع کردیا ہے اور پرانے شہر کے کئی علاقوں میں جہاں بورویل کی کھدوائی کا عمل جاری تھا اسے بند کروادیا گیا۔ قوانین کے مطابق بورویل کھدوانے کے خواہشمندوں کا تحصیلدار(ایم آر او) کے پاس اپنی جائیداد کے دستاویزات اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد سے حاصل کئے گئے اجازت نامہ کی نقولات کے ساتھ شخصی طوردرخواست داخل کرنی ہوگی۔تالاب یا کنٹہ سے 250 میٹر کی دوری پر ہی بورویل کی کھدوائی کی اجازت دی جائے گی اور اس کے لئے متعلقہ عہدیداروں کے شخصی دورہ اور جگہ کی نشاندہی کی بھی شرط ہوگی جن کی منظوری کے ساتھ بوریل کی کھدوائی کی جاسکتی ہے۔3/a/b