بوسنیا کا ترکیہ سے سابق جنرل و جنگی مجرم کو حوالے کرنے کا مطالبہ

   

ہرزیگووینا: بوسنیا کی ایک عدالت نے ترکیہ سے باضابطہ طور پر ایک سزا یافتہ جنگی مجرم کوحوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ سزایافتہ جنگی مجرم سابق جنرل ثاقب مہمولڑن ہیں۔ وہ اپنے خلاف مقدمے کی سماعت کے بعد بوسنیا سے فرار ہو گئے تھے۔ عدالتی حکام نے میڈیا کو بتایا کہ بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد بوسنیا ہرزیگووینا کی عدالت نے ترکیہ کو جنرل ثاقب کی حوالگی کی درخواست بھیجی ہے۔ 70 سالہ مہمولڑن بوسنیائی فوج کی تیسری کور کے سابق کمانڈر تھے۔
یہ بنیادی طور پرمقامی مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ انھوں نے 1990 کی دہائی میں ملک کی خونریز خانہ جنگی کے دوران میں خدمات انجام دی تھیں۔جنگی استغاثہ کے مطابق ملک کے شمال مشرق میں واقع ووزوکا اور زویڈووچی میں فوجیوں نے 50 سے زیادہ بوسنیائی سرب جنگی قیدیوں کو ہلاک کردیا تھا۔جنرل ثاقب کو گذشتہ سال اس جرم میں آٹھ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔