بڑے بھائی کے اشارے پر چھوٹے بھائی کے چلنے کا ثبوت

   

توسیع کابینہ میں مسلم وزیرنظرانداز، ریاست کی سیاست پر مسلمانوں کی گہری نظر، محمد فاروق حسین کا شدید ردعمل
حیدرآباد : /8 جون (سیاست نیوز) سابق رکن قانون ساز کونسل مسٹر فاروق حسین نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ریاست تلنگانہ میں کابینہ کی دوسری مرتبہ توسیع کے ساتھ ہی کانگریس نے پھر ایکبار مسلمانوں میں مایویسی پیدا کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے یہ ثابت کردیا کہ وہ بڑے بھائی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے چھوٹے بھائی ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔ یہ بات کھلی کتاب کی طرح ہے کہ اقتدار مستقل نہیں رہتا ۔ مسلمانوں کی اکثریت تلنگانہ میں موجود رہنے کے باوجود وزارت میں مسلمانوں کو جگہ نہ دینا یہ کس سمت اشارہ کرتا ہے ۔ اس پر ریاست کا ہر مسلمان بہت سنجیدگی سے غور کررہا ہے کہ آخر مسلمانوں کے ساتھ اس قدر ناانصافی کی وجہ کیا ہے کیونکہ ایس سی اور بی سی کو ترجیح دی گئی بہت اچھی بات ہے جبکہ مسلمانوں کو نظرانداز کیا گیا پہلے تو دیڑھ سال سے زائد عرصہ تک صرف گیارہ وزراء پر حکومت چل رہی تھی ۔ عوام کی بیزارگی اور حکومت سے ناراضگی کے تناظر میں یہ دوسری مرتبہ توسیع کی گئی جبکہ مسلمانوں کو یقین تھا کہ تمام طبقات سے انصاف کرنے کا نعرہ دینے والی یہ حکومت ایک مسلم وزیر کو شامل کرے گی ۔ آج سارے ہندوستان میں مسلمانوں کی بڑی آبادی ہونے کے باوجود مرکز میں ایک بھی مسلم وزیر نہیں ۔ اب چھوٹے بھائی بھی بڑے بھائی کی راہ اختیا کرتے ہوئے چھوٹی ریاست میں بھی اس سلسلہ کو آگے بڑھارہے ہیں ۔ اس بات پر بلالحاظ سیاسی وابستگی مسلمانوں کو غور و فکر کرنے کی شدید ضرورت ہے ۔ آج کا یہ فیصلہ ہمارے وجود کو بہت بڑا دھکا ہے ۔ کابینہ میں مسلمان کو نمائندگی نہ دینا کانگریس پارٹی کے لئے ایک سوالیہ نشان بن گیا ۔ سیکولرازم کے بلند بانگ دعوے کرنے والی کانگریس یہ بات ذہن نیشن کرلے اور وقت کو چھوٹی چیز نہ سمجھیں ۔ اس نے بڑے بڑے بادشاہوں کے دن پلٹ دیئے ہیں ۔ ریاست تلنگانہ میں بی آر ایس کا سنہرہ دور عوام کی آنکھوں کے سامنے ہے ۔ سابق وزیر اعلیٰ چندر شیکھر راؤ نے اقلیتوں میں اپنی ایک چھاپ چھوڑی ہے ۔ مسلم کو وزیر داخلہ دلوایا اور ڈپٹی چیف منسٹر بھی بنایا جبکہ عوام تلنگانہ میں کانگریس کے اقتدار میں آنے کے بعد کم از کم دو مسلم وزراء کی شمولیت یقینی سمجھ رہے تھے ۔ لیکن اب مسلم قائدین اور پارٹی کے حرکیاتی ورکرز کو غور کرنا ہوگا کہ کیا بڑے بھائی کے نقش قدم پر چھوٹے بھائی ؟ آخر میں فاروق حسین نے کہا کہ میں نے اپنی پچاس سالہ سیاسی زندگی میں ایسی حکمرانی ایسی ناانصافی کبھی نہیں دیکھی جبکہ کانگریس کو اقتدار میں لانے کے لئے مسلمانوں نے انتہائی اہم کردار نبھایا تھا ۔ آج جب مسلمانوں کو ان کے جائز جمہوری حق سے محروم کردیا گیا جو بہت افسوسناک پہلو ہے ۔ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو ابھی سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ ہماری ہمدرد آخر کونسی سیاسی جماعت ہے کیونکہ تاریخ کے اوراق شاید ہے کہ جو قوم بھلادیتی ہے تاریخ کو اپنی اس ملک کا جغرافیہ باقی نہیں رہتا ۔