بکرے کے گوشت کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ،تاجرین کی من مانی

   


ہوٹل صنعت پھر ٹھپ ہونے کا اندیشہ، قیمتوں پر قابو پانے کورونا وائرس کے دوران کے طرز پر اقدامات ناگزیر

حیدرآباد۔16۔اکٹوبر(سیاست نیوز) بکرے کے گوشت کے تاجرین کی من مانی بریانی کے شائقین کے لئے مہنگی ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ بکرے کے گوشت کی قیمتوں میں ہونے والے بے دریغ اضافہ کا اثر دیگر اشیاء پر مرتب ہوسکتا ہے۔ریاستی حکومت کی جانب سے اگر بکرے کے گوشت کی قیمت پر قابو پانے کے اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں ریاست بالخصوص شہر حیدرآباد میں ہوٹل صنعت کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ بکرے کی قیمتوں پر کنٹرول کا کوئی میکانزم نہ ہونے کی وجہ سے گذشتہ دو یوم کے دوران بکرے کے گوشت کی قیمت میں بھاری اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دونوں شہروں میں بکرے کا گوشت 1000 روپئے فی کیلو فروخت کیا جانے لگا ہے اور اس کے لئے بڑے جانور میں پائی جانے والی گانٹھ کی بیماری کا بہانہ بنایاجارہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ریاست تلنگانہ بالخصوص شہر حیدرآباد میں مسلم شادی بیاہ کی تقاریب عروج پر ہیں اور ان تقاریب میں گوشت کا استعمال ہوتا ہے اسی لئے مصنوعی قلت پیدا کرتے ہوئے بکرے کے گوشت کی قیمتوں میں بے دریغ اضافہ کیا جانے لگا ہے جو کہ ناقابل برداشت ہوچکا ہے۔دونوں شہروں میں گوشت کے چھوٹے تاجرین نے دریافت کرنے پر بتایا کہ جو گوشت ٹھوک بھاؤ میں 580 روپئے فی کیلو تک حاصل ہوا کرتا تھا وہ اب 800 روپئے ٹھوک بھاؤ میں فروخت کیا جا رہاہے جو کہ خود ان کے لئے تکلیف دہ ہے۔بڑے جانور کی بیماری کی بکرے میں منتقلی کی اطلاعات اور اس کے اثرات کو دیکھتے ہوئے بکرے کی جانچ کی جانے لگی ہے اور جانچ میں کی جانے والی سختی کے سبب حیدرآباد پہنچنے والے جانوروں میں کمی ریکارڈ کی جانے لگی ہے۔سرکاری عہدیداروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ شہر میں فروخت کئے جانے والے جانوروں میں کی تعداد میں کمی آئی ہے لیکن اس کے باوجودوہ یہ کہنے سے قاصر ہیں کہ یہ قلت مصنوعی ہے یا نہیں۔بتایاجاتا ہے کہ مصنوعی قلت کے ذریعہ من مانی قیمتوں کی وصولی کے لئے دھنگر جو بکرے پالتے ہیں وہ جانور فروخت نہیں کر رہے ہیں۔بکرے کے گوشت کی قیمت کو قابو میں رکھنے کے لئے کورونا وائرس کے دوران ریاستی حکومت کی جانب سے جو اقدامات کئے گئے تھے اسی طرز کے فوری طور پر اقدامات کو ناگزیر تصور کیا جا رہاہے کیونکہ تاجرین مہنگے جانور خرید کر نقصان کے ساتھ فروخت نہیں کرسکتے ۔حیدرآباد میں گوشت کی قیمتوں میں اضافہ پر فوری قابو پانے کے اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں بریانی کی قیمت میں اضافہ ہوسکتا ہے اور کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے بعد ریستوراں اور ہوٹل صنعت میں اب جو بہتری پیدا ہورہی ہے وہ ایک مرتبہ پھر سے ٹھپ ہونے کے خدشات پائے جانے لگے ہیں۔ مسلم تقاریب کے موسم میں گوشت اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ اور متعلقہ اداروں اور محکمہ جات کی جانب سے اختیار کردہ خاموشی عوام کے ذہنوں میں مختلف منفی شبہات پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہیں جو کہ کسی حد تک درست بھی ہے۔م