آر ایس ایس سربراہ کے نیویارک میں منعقدہ ایک پروگرام سے اتحاد کے بیان پر کپل سبل کا سخت ردعمل
نئی د ہلی۔30؍اگست ( ایجنسیز) راجیہ سبھا کے رکن اور سینئر وکیل کپل سبل نے اتوار کو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کے امریکہ میں دیے گئے بیان پر انہیںشدیدتنقید کا نشانہ بنایا۔ بھاگوت نے کہا تھا کہ تنوع میں اتحاد ہندوستان کے ڈی این اے میں ہے۔کپل سبل نے کہا کہ صرف الفاظ اہمیت نہیں رکھتے بلکہ کام بھی نظر آنا چاہیے۔ انہوں نے بھاگوت کے تبصرے پر تنقید کرتے ہوئے اسے بیرون ملک دانشمندانہ باتیں اور ملک میں خاموشی کے مترادف قرار دیا۔کپل سبل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ نیویارک میں بھاگوت تنوع ہماری فطری یکجہتی کی شان ہے جیسی باتیں کی کیں۔ سبل کا یہ تبصرہ آر ایس ایس سربراہ بھاگوت کے اس بیان کے بعد آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’تنوع میں اتحاد ہندوستان کے ڈی این اے میں ہے اور اسے منانا، اس کا احترام کرنا اور اسے قبول کیا جانا چاہیے۔واضح رہے کہ موہن بھاگوت نے نیویارک کے معروف میڈیسن اسکوائر گارڈن میں واقع انفوسس تھیٹر میں منعقدہ ایک بڑے پروگرام سے خطاب کیا تھا۔ اس میں ہندوستانی نژاد امریکی برادری کے 6000 سے زائد اراکین اور مختلف مذاہب کے رہنما شامل ہوئے۔ یہ پروگرام امریکن ہندوز فار انگیجمنٹ اینڈ ڈائیلاگ (اے ایچ ای اے ڈی) فورم کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جب ہم امریکہ کو یونائیٹڈ اسٹیٹس آف امریکہ کہتے ہیں تو ایک لفظ پر اکثر بحث ہوتی ہے اور وہ ہے تکثیریت۔ جب ہم ہندوستان کہتے ہیں تو ایک اور جملے پر بحث ہوتی ہے، تنوع میں اتحاد۔ ان کے مطابق ہندوستان کے لیے اتحاد اور تنوع دونوں اس کے ڈی این اے میں شامل ہیں۔ انہوں نے سوامی وویکانند کے پیغام کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہر قوم کا ایک مشن ہوتا ہے جسے اسے پورا کرنا ہوتا ہے۔آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’ہندوستان کو کون سا مقصد سونپا گیا ہے؟ ہندوستان اس تنوع میں اتحاد کو سمجھنے اور وقتاً فوقتاً دنیا کو اس کا احساس کرانے کو ہے۔ ہم ایک ہیں اور اسی تنوع کی وجہ سے اس اتحاد کی خوبصورتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ تنوع کا جشن منایا جانا چاہیے، اس کا احترام اور اسے قبول کیا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی ہمیں اتحاد کے اس احساس کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔ یہ ایک بہت حقیقی احساس ہے۔
بھاگوت کے نیویارک میں ہندو۔مسلم اتحاد بیان پر اپوزیشن کا ردعمل
آر ایس ایس سربراہ کوبی جے پی اور سنگھ کارکنوں کے سامنے تقریر کرنی چاہیے
نئی دہلی ۔30؍اگست ( ایجنسیز )آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے نیویارک میں ’یونیورسل ون نیس‘ پروگرام میں ہندو۔مسلم اتحاد پر دیے گئے بیان پر اپوزیشن لیڈران کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس ایم پیپرمود تیواری نے کہا کہ وہ بدلے ہوئے لہجے میں تقریر کر کے لوٹے ہیں۔ انہیں اس جگہ بولنے کی اجازت نہیں ملی جہاں وہ بولنا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے ایک چھوٹے سے کمرے میں اپنی بات کہی ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا آئین بالکل واضح ہے۔ یہ صنف، مذہب، ذات اور زبان کی بنیاد پر کسی امتیاز کے بغیر سب کو مساوات کی ضمانت دیتا ہے۔ اگر کوئی اپنے مذہب پر عمل کرتا ہے تو ہندوستان میں اسے بھی وہی حقوق حاصل ہیں جو دیگر تمام لوگوں کو حاصل ہیں۔کانگریس لیڈر سریندر راجپوت نے کہا کہ وہ امریکہ میں کیوں تقریر کرتے ہیں؟ ان کو یہ تقریر بی جے پی اور سنگھ کے تمام کارکنوں کے سامنے کرنی چاہیے۔ ان کی اس تقریر کی ضرورت ملک میں ہے۔ کانگریس لیڈر ادت راج نے کہا کہ ان لوگوں کا دوہرا کردار ہے اور ان کی منافقت کی کوئی حد نہیں رہی۔ وہ نیویارک میں غریبی دور کرنے گئے ہیں۔ یہاں کے لوگ اپنی غریبی دور کرنے کیلئے امریکہ گئے ہیں۔ وہ ڈنکی روٹ سے جاتے ہیں اور بے عزتی برداشت کرتے ہیں۔سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ہریندر سنگھ ملک نے کہا کہ اچھا رہے گا کہ موہن بھاگوت بی جے پی کارکنان اور ان کے وزرائے اعلیٰ اور وزراء کو یہ ہدایات دیں ۔ ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ سوگت رائے نے کہا کہ موہن بھاگوت نے جو کہا ہے اس پر وہ سچ میں یقین کرتے ہیں یا نہیں۔ڈی ایم کے لیڈر ایلانگوون نے بھاگوت کے بیان پر ردعمل دیا۔
کہا کہ انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ آئین کیا کہتا ہے۔