آسام اور بنگال میں دستاویزات طلب، دستاویز کی عدم فراہمی پر غیرملکی قرار دینے پر عمل
حیدرآباد۔20جولائی (سیاست نیوز) الیکشن کمیشن آف انڈیا بہار اسمبلی انتخابات کے پیش نظر فہرست رائے دہندگان کو نقائص سے پاک کرنے کے نام پر جو مہم شروع کیا ہے اسے آسام اور بنگال تک وسعت دینے کے اقدامات کئے جاچکے ہیں اور اب کہا جا رہاہے کہ ملک بھر کی تمام ریاستوں میں فہرست رائے دہندگان کی تنقیح کے اقدامات کئے جائیں گے اور ان اقدامات کے دوران شہریوں سے جو دستاویزات طلب کئے جا رہے ہیں ان میں کئی ایسے دستاویزات کی مانگ کی جا رہی ہے جو کہ شہری پیش کرنے سے قاصر ہیں اور اس بنیاد پر ان کے ناموں کو فہرست رائے دہندگان سے حذف کرتے ہوئے غیر ملکی قرار دیا جانے لگا ہے جو کہ ہندستانی شہریوں کے ساتھ سراسر ناانصافی کے مترادف ہے۔ ماہرین جو بہار انتخابات سے عین قبل کی جانے والی فہرست رائے دہندگان کی تنقیح کے اقدامات کا باریکی سے جائزہ لے رہے ہیں ان کا کہناہے کہ بہار ہی نہیں بنگال اور آسام میں بھی اس عمل کو شروع کیا گیا ہے اور فہرست رائے دہندگان کی تنقیح کے نام پر حکومت الیکشن کمیشن آف انڈیا کے توسط سے وہ تمام دستاویزات کی جانچ کر رہی ہے جو کہ این آر سی کے دوران طلب کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ بہار اسمبلی انتخابات کے اعلان سے قبل الیکشن کمیشن آف انڈیا نے فہرست رائے دہندگان کی تنقیح کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کے دوران کمیشن کے ذرائع کے ذریعہ اس اطلاع کو ذرائع ابلاغ میں پھیلانے کا کام کیا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ بہار کی فہرست رائے دہندگان میں 35 لاکھ رائے دہندوں کے ناموں کو حذف کیا جائے گا۔بتایاجاتا ہے کہ بہار میں اقلیتی آبادیوں میں فہرست رائے دہندگان کی تنقیح کا عمل الیکشن کمیشن کی جانب سے طلب کئے جانے والے دستاویزات کو طلب کرتے ہوئے کیا جا رہاہے اور جو لوگ طلب کردہ دستاویزات پیش کررہے ہیں ان کو فہرست رائے دہندگا ن میں شامل کرنے کے لئے فارمس جاری کئے جا رہے ہیں تاکہ ان کے ناموں کو شامل کیا جاسکے لیکن غیر اقلیتی آبادیوں میں بوتھ لیول آفیسرس کی جانب سے فارمس پر کرتے ہوئے جمع کئے جا رہے ہیں اور غیر اقلیتی آبادیوں کو اس بات کا علم بھی نہیں ہورہا ہے کہ ان کے ناموں کی تنقیح کی گئی ہے۔بہار سے راست صحافتی ذمہ داریاں ادا کرنے والے صحافیوں کی جانب سے اس انکشاف پر ان کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے کاروائی کا انتباہ دیا جا رہاہے اور جو صورتحال بہار کی ہے اسی طرح کے حالات ریاست آسام اور بنگال میں بھی پیدا کئے جاچکے ہیں جہاں الیکشن کمیشن آف انڈیا کے عہدیداروں کا استعمال کرتے ہوئے بالواسطہ طور پر این آر سی کروانے کے اقدامات کئے جانے لگے ہیں ۔ذرائع کے مطابق مرکزی حکومت کی جانب سے نفرت کے ماحول کو گرماتے ہوئے ان ریاستوں کے علاوہ جنوبی ہند کی ریاستوں میں بھی اس مہم کے آغاز کی منصوبہ بندی کرنے لگی ہے تاکہ ملک بھر میں مردم شماری کے آغاز سے قبل این آر سی کے عمل کو مکمل کیا جاسکے۔3