پولیس سے کے ٹی آر و ہریش راؤ کی تکرار، کل تک اشارہ پر کام کرنے والے آج گرفتار کررہے تھے
حیدرآباد ۔ یکم اگسٹ (سیاست نیوز) بی آر ایس ارکان اسمبلی کو اسمبلی کی لابی اور احاطہ میں دھرنا منظم کرنے پر گرفتار کرلیا گیا۔ تلنگانہ اسمبلی میں چیف منسٹر ریونت ریڈی کی جانب سے بی آر ایس کی خاتون ارکان کے خلاف ریمارکس پر ڈھائی گھنٹے تک احتجاج کے بعد بی آر ایس ارکان نے کے ٹی آر اور ہریش راؤ کی قیادت میں ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔ احتجاجی ارکان نعرے لگاتے ہوئے چیف منسٹر ریونت ریڈی کے چیمبر کے باہر بیٹھ گئے اور مخالف چیف منسٹر نعرے لگائے۔ سکیورٹی عملہ نے چیف منسٹر کے چیمبر کے پاس احتجاج کی اجازت نہیں دی جس کے بعد بی آر ایس ارکان اسپیکر اسمبلی جی پرساد کمار کے چیمبر کے باہر بیٹھ گئے اور انصاف کا مطالبہ کرنے لگے۔ اسمبلی لابی میں ارکان کو احتجاج کی اجازت نہیں ہوتی لہذا سکیورٹی عملہ نے ٹاسک فورس کو طلب کیا اور مارشلس کی مدد سے احتجاجی ارکان کو اسمبلی کے باہر منتقل کیا گیا۔ بی آر ایس ارکان احتجاج کو جاری رکھے ہوئے تھے اور اسمبلی کی عمارت سے باہر نکلنے کے بعد دوبارہ دھرنا شروع کردیا۔ پولیس نے ارکان اسمبلی کو گرفتار کرلیا اور کئی سینئر ارکان بشمول کے ٹی آر اور ہریش راؤ کو اُٹھاکر پولیس کی گاڑی میں منتقل کیا گیا۔ پولیس ویان میں احتجاجی ارکان کو منتقل کرنے کے بعد اُنھیں بی آر ایس کے ہیڈکوارٹر تلنگانہ بھون چھوڑ دیا گیا۔ اسمبلی کے احاطہ اور لابی میں بی آر ایس ارکان کے احتجاج کے سبب پولیس نے سخت چوکسی اختیار کرلی تھی۔ اسمبلی کے باہر بی آر ایس کارکنوں کے امکانی احتجاج کے پیش نظر زائد دستے طلب کرلئے گئے۔ علیحدہ تلنگانہ کی تشکیل کے بی آر ایس 10 سال تک برسر اقتدار رہی اور اقتدار سے محرومی کے بعد پارٹی قائدین کیلئے یہ اپوزیشن کے طور پر پہلا تجربہ تھا۔ کے ٹی آر اور ہریش راؤ جیسے قائدین کو پہلی مرتبہ اپوزیشن میں رہنے کی مجبوری کا احساس ہوا۔ وہ پولیس عہدیدار جو ایک سال قبل تک اُن کے اشارے پر کام کرتے رہے، آج وہی اُنھیں گرفتار کرنے مارشلس کو ہدایت دے رہے تھے۔ ایوان میں بھی بی آر ایس ارکان کو مائیک حاصل کرنے میں ناکامی کے سبب اقتدار سے محرومی کا احساس ہورہا تھا۔ کے ٹی آر اور ہریش راؤ نے پولیس اہلکاروں سے کہاکہ اقتدار کسی کا مستقل نہیں ہوتا اور آئندہ الیکشن میں بی آر ایس دوبارہ برسر اقتدار آئیگی۔ گرفتاری و اسمبلی کے باہر منتقلی کے دوران پولیس عملہ اور بی آر ایس ارکان میں بحث و تکرار ہوئی۔ 1