بی آر ایس سے بی جے پی کے خفیہ اتحاد کی تردید : ایم کرشنک

   

اگر اتحاد ہوتا تو بی آر ایس کو لاکھوں ووٹ کیسے آتے چیف منسٹر سے استفسار
حیدرآباد ۔ 5 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس سوشیل میڈیا کے کنوینر ایم کرشنک نے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کی جانب سے بی آر ایس کے سربراہ کے سی آر پر بی جے پی کو کامیاب بنانے کیلیے ساری طاقت جھونک دینے کا الزام عائد کرنے کی سخت مذمت کی اور چیف منسٹر سے استفسار کیا کہ بی جے پی سے خفیہ مفاہمت کرنے پر بی آر ایس کو لاکھوں کی تعداد میں ووٹ کیسے آئے ۔ کرشنک نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے چیف منسٹر کو مشورہ دیا کہ وہ جھوٹ پھیلانے کے بجائے نظم و نسق پر فوری توجہ مرکوز کریں ۔ انہوں نے کہا کہ حلقہ لوک سبھا محبوب آباد میں بی آر ایس کو 2.61 لاکھ ووٹ حاصل ہوئے جب کہ بی جے پی کو 1.08 لاکھ ووٹ حاصل ہوئے یہاں پر بھی بی آر ایس پارٹی بی جے پی سے ہاتھ ملائی کیا استفسار کیا ؟ حلقہ لوک سبھا ورنگل میں کانگریس کی امیدوار بی جے پی کو 2.20 لاکھ ووٹوں کی اکثریت سے شکست دی ۔ اس حلقہ میں بی آر ایس کو 2.32 لاکھ ووٹ حاصل ہوئے ہیں اگر بی آر ایس پارٹی بی جے پی سے مفاہمت کرتی تو کانگریس کیسے کامیاب ہوتی استفسار کیا ؟ بی آر ایس سوشیل میڈیا کے کنوینر نے کہا کہ حلقہ لوک سبھا بھونگیر میں کانگریس نے بی جے پی کو شکست دیتے ہوئے 2.20 لاکھ ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے ۔ جہاں سے بی آر ایس پارٹی کو 2.54 لاکھ ووٹ حاصل ہوئے ہیں ۔ بی آر ایس پارٹی بی جے پی سے اتحاد کرتی تو کیا کانگریس کامیاب ہوتی سوال کیا ؟ حلقہ لوک سبھا ناگر کرنول میں کانگریس پارٹی نے صرف 94 ہزار ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے ۔ اس حلقہ سے بی آر ایس کو 3.19 لاکھ ووٹ حاصل ہوئے جو بی جے پی سے صرف 40 ہزار کم ووٹ ہیں ۔ حلقہ لوک سبھا ناگر کرنول میں بی آر ایس سخت مقابلہ پیش نہیں کرتی تو کیا کانگریس کامیاب ہوتی سوال کیا ؟ کرشنک نے کہا کہ ملک میں تاملناڈو ، آندھرا پردیش ، مغربی بنگال ، اترپردیش جیسی ریاستوں میں علاقائی جماعتوں نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے ۔ علاقائی جماعتوں کی اہمیت کیا ہے ان ریاستوں نے ثابت کردیا ہے۔ مودی اور راہول گاندھی نے عوام سے جن گیارنٹی کا اعلان کیا ہے ان سے عوام کو فائدہ پہونچنے تک بی آر ایس جدوجہد کرتے رہے گی ۔ کانگریس اور بی جے پی کے جھوٹے وعدوں کے سامنے بی آر ایس ہرگز سر نہیں جھکائے گی ۔۔ 2