بی آر ایس قائدین کے پاس دولت لیکن کانگریس امیدواروں کے ساتھ عوام کی تائید: ریونت ریڈی

,

   

بی جے پی اور بی آر ایس دونوں ایک، 100 حلقوں میں بی جے پی کی ضمانت ضبط ہوگی، خانہ پور اور عادل آباد میں انتخابی جلسوں سے صدر کانگریس کا خطاب
حیدرآباد ۔8۔نومبر (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے تلنگانہ میں بی جے پی کی جانب سے بی سی چیف منسٹر سے متعلق وزیراعظم نریندر مودی کے اعلان کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ تلنگانہ میں 2 فیصد حاصل کرتے ہوئے چیف منسٹر کا خواب دیکھنا مذاق سے کم نہیں۔ کانگریس کی انتخابی مہم کے سلسلہ میں ریونت ریڈی نے آج خانہ پور ، عادل آباد اور راجندر نگر میں انتخابی جلسوں سے خطاب کیا اور بی جے پی اور بی آر ایس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ وزیراعظم نریندر مودی کے حیدرآباد دورہ کا حوالہ دیتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ بی سی طبقات کو گمراہ کرنے کیلئے نریندر مودی نے تلنگانہ میں بی سی چیف منسٹر کا وعدہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی سی طبقات باشعور ہیں اور وہ وزیراعظم کے گمراہ کن بیانات کا شکار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے مرکز میں بی سی طبقات کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔ مرکزی حکومت کے اہم عہدوں میں بی سی طبقات کی نمائندگی مایوس کن ہے۔ ریونت ریڈی نے بتایا کہ ملک میں 10 ریاستوں میں بی جے پی کے چیف منسٹرس ہیں جن میں سے صرف ایک چیف منسٹر کا تعلق بی سی طبقہ سے ہے۔ برخلاف اس کے کانگریس کے 4 چیف منسٹرس میں 3 کا تعلق بی سی طبقات سے ہے۔ راجستھان ، چھتیس گڑھ اور کرناٹک کے چیف منسٹرس بی سی طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ اسمبلی چناؤ میں بی جے پی کو محض 2 فیصد ووٹ حاصل ہوسکتے ہیں اور چیف منسٹر کا خواب دیکھنا مضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ 100 اسمبلی نشستوں پر بی جے پی کی ضمانت ضبط ہوجائے گی۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ بی جے پی اور بی آر ایس دونوں ایک ہیں اور کانگریس کو اقتدار سے روکنے کیلئے سازش کر رہے ہیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ بی جے پی کو ووٹ دینا دراصل بی آر ایس کو ووٹ دینے کے مترادف ہے ۔ عوام کو چاہئے کہ وہ تلنگانہ میں حقیقی عوامی حکومت کی تشکیل کیلئے کانگریس کو ووٹ دیں۔ زرعی شعبہ کو 24 گھنٹے برقی سربراہی کے حکومت کے دعوے پر ریونت ریڈی نے کے سی آر ، کے ٹی آر اور ہریش راؤ کو چیلنج کیا کہ کسی ایک ضلع میں 24 گھنٹے برقی سربراہی ثابت کریں تو کانگریس پارٹی الیکشن سے دستبرداری ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی سب اسٹیشن میں ریکارڈ کا جائزہ لیں تو 24 گھنٹے برقی سربراہی کا ثبوت نہیں ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ 24 گھنٹے زرعی شعبہ کو برقی سربراہ کرنے والی واحد پارٹی کانگریس ہے۔ کانگریس دور حکومت میں کسانوں کو مفت برقی سربراہی کا آغاز ہوا تھا ۔ ریونت ریڈی نے رقومات حاصل کرتے ہوئے پارٹی ٹکٹ الاٹ کرنے سے متعلق الزامات کو مسترد کردیا اور کہا کہ ٹکٹ سے محروم افراد اس طرح کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی کی اہلیت کی بنیاد پر پارٹی ٹکٹ الاٹ کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی غریب لیکن عوام میں مقبول امیدواروں کو پارٹی نے ٹکٹ دیا ہے ۔ بی جے پی اور بی آر ایس نے کروڑپتی افراد کو ٹکٹ الاٹ کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی آرایس قائدین کے پاس دولت ہے جبکہ کانگریس امیدواروں کے ساتھ عوام کی تائید اور ووٹ موجود ہے۔ آبپاشی پراجکٹس میں بے قاعدگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کالیشورم پراجکٹ میں دھاندلیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس برسر اقتدار آنے پر دھرانی پورٹل منسوخ کرتے ہوئے عصری سہولتوں کے ساتھ نیا پورٹل متعارف کیا جائے گا جو کسانوں اور غریبوں کی اراضیات کا تحفظ کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ دھرانی پورٹل کے نام پر لاکھوں ایکر اراضی کسانوں سے چھین لی گئی ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ 9 ڈسمبر کو تلنگانہ میں اندرماں راج کا آغاز ہوگا اور کانگریس کی جانب سے اعلان کردہ 6 ضمانتوں پر عمل کیا جائے گا ۔
کملاکر کے خلاف درخواست ہائی کورٹ میں مسترد
حیدرآباد ۔8۔نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے ریاستی وزیر سیول سپلائیز جی کملاکر کو راحت دی ہے۔ 2018 ء اسمبلی انتخابات میں جی کملاکر کی کامیابی کو چیلنج کرتے ہوئے داخل کردہ انتخابی عذرداری کو ہائی کورٹ نے خارج کردیا۔ کانگیرس لیڈر اور سابق رکن پارلیمنٹ پونم پربھاکر نے درخواست میں شکایت کی تھی کہ جی کملاکر نے الیکشن کمیشن کی جانب سے مقررہ حد سے زیادہ رقومات خرچ کی ہیں۔ ہائی کورٹ نے درخواست گزار کی جانب سے الزامات کے حق میں مناسب ثبوت فراہم نہ کرنے پر درخواست کو مسترد کردیا ۔ دوسری طرف بی جے پی لیڈر بنڈی سنجے کی جانب سے جی کملاکر کے خلاف دائر کی گئی درخواست کی ہائی کورٹ میں کل جمعرات کو سماعت ہوگی۔