حلقہ لوک سبھا چیوڑلہ کا تلنگانہ بھون میں اجلاس، مہیندر ریڈی اور پائیلٹ روہت ریڈی کے درمیان بحث و تکرار
حیدرآباد /5 جنوری ( سیاست نیوز ) ہریش راؤ کی موجودگی میں بی آر ایس کے اختلافات پھر ایک مرتبہ منظر عام پر آگئے ۔ سابق وزیر پی مہیندر ریڈی اور بی آر ایس کے سابق رکن اسمبلی پائلیٹ روہت ریڈی نے ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ دونوں قائدین کے حامیوں نے بھی نعرے بازی شروع کردی ۔ جس سے تھوڑی دیر کیلئے کشیدگی پیدا ہوگئی ۔ تلنگانہ بھون میں پارلیمنٹ انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔ آج تیسرے دن لوک سبھا حلقہ چیوڑلہ کا اجلاس منعقد ہوا ۔ 7 اسمبلی حلقوں میں فی حلقہ 100 قائدین و کارکنوں کو مدعو کیا گیا ۔ اپنی شکست کیلئے پائلیٹ روہت ریڈی نے سابق وزیر پی مہیندر ریڈی کو ذمہ دار قرار دیا جبکہ پی مہیندر ریڈی نے اسمبلی حلقہ تانڈور میں بی آر ایس پارٹی کو گروپس میں تقسیم کردینے کا پائلیٹ روہت ریڈی پر الزام عائد کیا ۔ دونوں قائدین سب کی موجودگی میں ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنانے لگے ۔ دونوں قائدین کے حامیوں نے بھی نعرے بازی شروع کردی ۔ جس سے اجلاس میں افراتفری پیدا ہوگئی اور حالات کو مزید بگڑنے سے روکنے کیلئے ہریش راؤ نے اجلاس کو لنچ وقفہ کا اعلان کردیا ۔تھوڑی دیر کے بعد حالات معمول پر آئے ۔ ہریش راؤ نے پی مہیندر ریڈی اور پائلیٹ روہت ریڈی کو علحدہ طلب کرتے ہوئے بات چیت کی ۔ پارٹی کی شکست کے بعد سنبھل جانے اور لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کے بہتر مظاہرہ کیلئے دونوں قائدین کو مل جھل کر کام کرنے کا مشورہ دیا ۔ سینئیر قائدین کو پارٹی کے کارکنوں کیلئے مشعل راہ بننے پر زور دیا ۔ پارٹی کے اندرونی اختلافات ، چھوٹے بڑے نظریاتی اختلافات اور ایک دوسرے میں تال میل نہ ہونے سے پارٹی کو اسمبلی انتخابات میں نقصان ہونے کا حوالہ دیا ۔ کم از کم پارلیمانی انتخابات میں اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے پارٹی کی کامیابی کیلئے کام کرنے کی اپیل کی ۔ بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ رنجیت ریڈی نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات میں بی آر ایس پارٹی حلقہ لوک سبھا چیوڑلہ سے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی شکست کا جائزہ لیتے ہوئے بی آر ایس قیادت نئی حکمت عملی تیار کرتے ہوئے عوام کے درمیان پہونچ رہی ہے ۔ 2