عوام کو مشتعل کرنے کی کوششیں افسوسناک، رکن پارلیمنٹ کرن کمار ریڈی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔یکم؍ اکٹوبر، ( سیاست نیوز) کانگریس رکن پارلیمنٹ سی ایچ کرن کمار ریڈی نے الزام عائد کیا کہ بی آر ایس موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ میں رکاوٹ پیدا کرتے ہوئے غیر مجاز قابضین کی مدد کررہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ متحدہ نلگنڈہ ضلع کے کسانوں سے دشمنی کرتے ہوئے بی آر ایس ان کی فصلوںکو سیراب کرنے سے حکومت کو روکنا چاہتی ہے۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کرن کمار ریڈی نے کہاکہ جھیلوں کے تحفظ کیلئے حیڈرا کی جانب سے کی جارہی کارروائیوں کی مخالفت کرنا دراصل حیدرآباد میں رئیل اسٹیٹ کاروبار کو متاثر کرنے کی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے چیف منسٹر کی حیثیت سے اسمبلی میں بیان دیا تھا کہ حیدرآباد میں تالابوں کے آبگیر علاقوں میں 28 ہزار غیر مجاز تعمیرات ہیں۔ انہوں نے حیدرآباد میں بارش کی صورت میں رہائشی علاقوں کو نقصان سے بچانے کیلئے جھیلوں کے تحفظ اور موسیٰ ندی کے ترقیاتی پراجکٹ کا اعلان کیا تھا۔ اب جبکہ کانگریس حکومت حیدرآباد کو سیلاب کی صورتحال سے بچانے کی کوشش کررہی ہے بی آر ایس قائدین رکاوٹ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ گمراہ کن بیانات کے ذریعہ عوام کو حکومت کے خلاف مشتعل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ ندی کے ذریعہ نلگنڈہ میں ہزاروں ایکر اراضی کو سیراب کیا جاسکتا ہے۔ نلگنڈہ کے رائے دہندوں نے بی آر ایس کو مسترد کردیا لہذا کسانوں سے بدلہ لینے کیلئے موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ کی مخالفت کی جارہی ہے۔ رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت میں جھیلوں اور تالابوں پر غیر مجاز قبضوں کی حوصلہ افزائی کی گئی اور بی آر ایس کے کئی قائدین ناجائز قبضوں میں ملوث ہیں۔ رکن پارلیمنٹ نے بی آر ایس اور بی جے پی کو مشورہ دیا کہ وہ ترقیاتی پراجکٹس میں رکاوٹ بننے کے بجائے حکومت سے تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی حکومت موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ پر عمل آوری کے ذریعہ ندی کو آلودگی سے پاک اور نلگنڈہ کے کسانوں کو آبپاشی ضرورتوں کیلئے سیراب کرنے کا تہیہ کرچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیڈرا کا قیام حیدرآباد کے حق میں ہے۔ آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کیلئے تالابوں اور جھیلوں کا تحفظ کیا جارہا ہے۔1