بی آر ایس کا فی الحال 8 حلقوں میں طاقتور موقف : کے ٹی آر

   

13 تا 14 حلقوں میں کامیابی کے لیے پارٹی قائدین اور کیڈر کو متحدہ طور پر کام کرنے پر زور
حیدرآباد ۔ 29 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے کہا کہ تلنگانہ میں بی آر ایس پارٹی 8 لوک سبھا حلقوں میں کانگریس اور بی جے پی سے بہت زیادہ آگے نکل چکی ہے ۔ بی آر ایس کے قائدین اور کیڈر متحد ہو کر آئندہ دس دن تک پارٹی کے لیے کام کرتے ہیں تو بی آر ایس 13 تا 14 حلقوں پر کامیابی حاصل کرے گی ۔ کے ٹی آر نے نیوز چینل 24 سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں بی آر ایس پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھر رہی ہے ۔ کانگریس حکومت عوام سے کئے گئے وعدوں کو نبھانے میں پوری طرح ناکام ہوگئی ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی اپنی کارکردگی کی رپورٹ پر عوام سے ووٹ طلب کرنے کے بجائے جس گاؤں اور شہر کا دورہ کررہے ہیں وہاں کے مقامی منادر کی قسم کھاتے ہوئے کسانوں کے قرض معاف کرنے کا وعدہ کررہے ہیں جس پر عوام بھروسہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ ریونت ریڈی نے حکومت تشکیل پاتے ہی 9 دسمبر کو کسانوں کے قرض معاف کرنے ، عوام کو مفت برقی دینے 500 روپئے میں گیس سلنڈرس دینے کا وعدہ کیا تھا اس سے انحراف کیا گیا پھر 100 دن میں 6 گیارنٹی پر عمل کرنے کا وعدہ کیا ۔ 130 دن مکمل ہوگئے مگر ان ضمانتوں پر بھی عمل نہیں کیا گیا ۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی اور وزراء کے علاوہ کانگریس کے دوسرے قائدین 6 کے منجملہ 5 گیارنٹی پر عمل کرنے کا دعویٰ کررہے ہیں ۔ جس میں کوئی سچائی نہیں ہے کیوں کہ کانگریس حکومت آر ٹی سی بسوں میں مفت سفر کرنے والی خواتین کی تعداد ہر تھوڑے دن میں پیش کررہی ہے ۔ خواتین کی کتنی بچت ہوئی اور حکومت کی جانب سے آر ٹی سی کو ادا کئے گئے فنڈس کی تفصیلات پیش کررہی ہے ۔ مگر کتنے مکانات کو مفت برقی ، 500 روپئے میں پکوان گیس ، کتنے لوگوں کا 10 لاکھ روپئے تک مفت علاج کرایا گیا ۔ اس کی کوئی تفصیلات پیش نہیں کررہی ہے ۔ کانگریس پارٹی لوک سبھا انتخابات میں پھر ایک مرتبہ عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کررہی ہے ۔ جس کا الٹا اثر ہوگا اور حکومت کو اس کا خمیازہ بھگتنے کے لیے تیار رہنا ہوگا ۔۔ 2