نوجوان بالخصوص پہلی مرتبہ ووٹ دینے والے رائے دہندوں کا ہندوتوا کو ووٹ : کے ٹی آر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 3 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ اب کے سی آر تلنگانہ کے چیف منسٹر نہیں رہے ۔ کانگریس نے جھوٹے وعدے کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کیا ۔ کانگریس کو ووٹ دیتے ہوئے صرف ایک ماہ میں عوام پچھتاوے کا اظہار کررہے ہیں ۔ پارلیمانی انتخابات کی تیاری کے لیے کے ٹی آر نے آج تلنگانہ بھون میں حلقہ لوک سبھا عادل آباد کے بی آر ایس قائدین کا اجلاس منعقد کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ پارٹی کے باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ اسمبلی انتخابات میں شکست سے دوچار ہونے والے امیدواروں نے کے ٹی آر کو بتایا کہ نوجوان نسل بالخصوص پہلی مرتبہ حق رائے دہی سے استفادہ کرنے والے رائے دہندوں نے ہندوتوا کو ووٹ دیا ہے جب کہ بی آر ایس کے دور حکومت میں کئی منادر تعمیر کئے گئے مگر نوجوان نسل نے بی جے پی کے ہندوتوا کو قبول کیا ہے ۔ بی جے پی ایک طرف ہندوتوا کی تشہیر کی دوسری طرف کانگریس نے بیروزگاری کے خلاف گمراہ کن مہم چلائی جب کہ بی آر ایس حکومت نے ایک لاکھ 25 ہزار سرکاری ملازمتیں فراہم کی ہے ۔ جن نوجوانوں نے بی آر ایس کو ووٹ نہیں دیا ان کے ارکان خاندان نے بی آر ایس حکومت کی فلاحی اسکیمات سے بھر پور فائدہ اٹھایا ہے ۔ شکست خوردہ تمام ارکان اسمبلی اور پارٹی کے دوسرے قائدین نے شکست کی وجوہات پر روشنی ڈالی اور لوک سبھا انتخابات کے لیے تجاویز پیش کئے ۔ کے ٹی آر نے میڈیا سے خطاب میں بتایا کہ انہیں آج بھی یقین نہیں ہورہا ہے کہ بڑے پیمانے پر فلاحی اسکیمات پر عمل کرنے اور ریاست کو ترقی دینے کے معاملے میں دن رات کام کرنے کے باوجود بی آر ایس کو شکست ہوگئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک ماہ قبل ریاست میں نتائج برآمد ہوئے ہیں ۔ ایک ماہ تک پارٹی قائدین سے مشاورت کے بعد اس نتیجے پر پہونچے ہے کہ کانگریس پارٹی نے بی آر ایس حکومت کے خلاف گمراہ کن مہم چلائی تھی جس کا ہم صحیح وقت پر منھ توڑ جواب نہیں دے پائے ہیں ۔ کانگریس کی گمراہ کن مہم اور جھوٹے وعدوں سے عوام متاثر ہوگئے جس کی وجہ سے کانگریس کو فائدہ اور بی آر ایس کو نقصان ہوا ہے ۔ کانگریس اور بی آر ایس کی کامیابی اور شکست کے درمیان صرف 2 فیصد ووٹ کا فرق ہے ۔ سارے ملک میں سب سے زیادہ تلنگانہ میں سرکاری ملازمتیں فراہم کی گئی ہیں جس کی بی آر ایس صحیح طریقے سے تشہیر نہیں کرپائی ہے ۔ ہمیں سوشیل میڈیا میں مزید بہتر تشہیر کرنے کی ضرورت تھی جس میں بھی ہم ناکام ہوئے ہیں ۔ پارٹی قائدین اور کارکنوں کے درمیان جو بھی چھوٹے بڑے اختلافات تھے اس کو وقت رہتے سدھار لیا نہیں گیا جس سے بھی پارٹی کو شکست ہوئی ہے ۔ عوام بتارہے ہیں کہ انہیں سابق چیف منسٹر کے سی آر سے کوئی شکایت نہیں ہے ۔ صرف مقامی امیدوار سے ناراضگی کی وجہ سے انہوں نے کانگریس کو ووٹ دیا ہے ۔ کے ٹی آر نے پارٹی قائدین اور کارکنوں کو مشورہ دیا کہ وہ شکست سے ہرگز مایوس نہ ہو بلکہ ایک نئے جوش و خروش کے ساتھ لوک سبھا انتخابات کی تیاری کریں ۔۔ 2