بی آر ایس کے چھوٹے قائدین پارٹی کو انتخابات میں ناکامی کے بعد تذبذب کا شکار

   

حیدرآباد 24 ڈسمبر (سیاست نیوز) بی آر ایس میں موجود چھوٹے قائدین اس بات پر تذبذب کا شکار ہیں کہ آیا وہ اس پارٹی میں برقرار رہیں یا کانگریس میں شمولیت اختیار کریں۔ وہ اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں کیوں کہ آئندہ پانچ سال تک بی آر ایس کو اپوزیشن بینچس میں بیٹھنا ہوگا۔ حالیہ اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی اقتدار سے محرومی کے بعد کیڈر کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے اور انھیں اس بات کی فکر ہے کہ وہ آئندہ منعقد ہونے والے مجالس مقامی اور بلدی انتخابات میں کس طرح بہتر مظاہرہ کرپائیں گے۔ کئی قائدین جنھیں ماضی میں بی آر ایس حکومت میں کوئی عہدہ نہیں ملا یا کوئی فوائد حاصل نہیں ہوئے، وہ ان کی سیاسی بقاء کے لئے کانگریس میں شامل ہونے پر غور کررہے ہیں۔ وہ یہ فیصلہ نہیں کرپارہے ہیں کہ دو پارٹیوں کانگریس یا بی آر ایس میں کونسی پارٹی ان کے لئے سازگار اور فائدہ مند ہے۔ بعض قائدین کا میلان اب بھی لوک سبھا انتخابات تک انتظار کرنے اور یہ دیکھنے کا ہے کہ آیا بی آر ایس پھر بہتر مظاہرہ کرپائے گی۔ دوسری طرف کئی موجودہ ایم پی ٹی سی، زیڈ پی ٹی سی، ممبرس جنھوں نے حالیہ اسمبلی انتخابات سے قبل کانگریس میں شامل ہوئے تھے، کانگریس کے ریاست میں برسر اقتدار آنے کے ساتھ اب مطمئن ہیں اور انہیں مجالس مقامی انتخابات میں ٹکٹ یا نامزد عہدوں پر مقرر کئے جانے کی اُمید ہے۔