بی ایس پی سے بی آر ایس کی مفاہمت سیاسی مجبوری

   

پروین کمار 3 نشستوں کے حق میں، بی آر ایس نے حیدرآباد اور ناگر کرنول کا پیشکش کیا
حیدرآباد 14 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ میں لوک سبھا چناؤ کے موقع پر بی آر ایس اور بی ایس پی کے درمیان مفاہمت کو قطعیت دیا جانا ابھی باقی ہے۔ بی آر ایس نے لوک سبھا کی 2 نشستوں کا پیشکش کیا ہے جبکہ بی ایس پی قائدین 3 نشستوں کی مانگ کررہے ہیں۔ بی آر ایس کے سربراہ کے چندرشیکھر راؤ سے بی ایس پی کے رکن پارلیمنٹ رام جی گوتم نے ریاستی صدر آر ایس پروین کمار کے ہمراہ ملاقات کی۔ دوسرے دور کی اِس بات چیت میں نشستوں پر مفاہمت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پہلے مرحلہ میں پروین کمار نے کے سی آر سے بات چیت کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ بی ایس پی نے ناگر کرنول اور مزید دو لوک سبھا نشستوں کی مانگ کی ہے جبکہ بی آر ایس ناگر کرنول اور حیدرآباد لوک سبھا نشست الاٹ کرنے کا پیشکش کررہی ہے۔ بی ایس پی نے عادل آباد کی نشست کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ بی ایس پی کے ریاستی صدر پروین کمار ناگر کرنول لوک سبھا حلقہ سے مقابلہ کی تیاری کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بی ایس پی کی قومی سربراہ مایاوتی مفاہمت کے مسئلہ پر کے سی آر سے بات چیت کریں گی جس کے بعد ہی باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ اندرون دو یوم مایاوتی کے سی آر سے بات چیت کریں گی۔ اِسی دوران پروین کمار نے ناگر کرنول لوک سبھا حلقہ میں پارٹی کارکنوں کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے انتخابی مہم کا عملاً آغاز کردیا ہے۔ 2014 ء اسمبلی چناؤ میں بی ایس پی کو عادل آباد لوک سبھا حلقہ کے تحت 2 اسمبلی نشستوں نرمل اور سرپور میں کامیابی حاصل ہوئی تھی لیکن کامیابی کے بعد اندرا کرن ریڈی اور کونیرو کونپا نے بی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ حالیہ اسمبلی چناؤ میں آر ایس پروین کمار نے سرپور سے مقابلہ کیا تھا لیکن اُنھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اِس مرتبہ وہ ناگر کرنول لوک سبھا حلقہ سے مقابلہ کی تیاری کررہے ہیں۔ بی آر ایس ذرائع کے مطابق ناگر کرنول اور حیدرآباد کی نشستیں بی ایس پی کو الاٹ کی جاسکتی ہیں۔ عادل آباد کے بارے میں تاحال فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جبکہ بی آر ایس نے لوک سبھا چناؤ میں کسی غیر مقامی پارٹی سے مفاہمت کی ہے۔ دراصل اسمبلی چناؤ میں شکست کے بعد بی آر ایس کے پاس لوک سبھا چناؤ کیلئے مضبوط امیدوار نہیں ہیں۔ بی آر ایس کے بیشتر موجودہ ارکان پارلیمنٹ نے دوبارہ مقابلہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔ ان حالات میں بی آر ایس کیلئے 17 لوک سبھا حلقوں کیلئے مضبوط امیدواروں کا انتخاب کرنا آسان نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دلتوں کی تائید حاصل کرنے کیلئے کے سی آر نے بی ایس پی سے مفاہمت کا فیصلہ کیا ہے۔ 1

کے سی آر نے ابھی تک 9 لوک سبھا حلقوں کے لئے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ بی ایس پی سے مفاہمت کے بعد باقی 8 امیدواروں کا اعلان کیا جائے گا۔ 1