بی بی سی کی اسرائیل کے حق میں مہم، بورڈ ممبر کو برطرف کریں: ملازمین کا خط

   

لندن : 3جولائی ( ایجنسیز ) برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے وابستہ سینکڑوں ملازمین نے ایک کْھلے خط کے ذریعہ ادارے کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اس پر اسرائیلی حکومت کی طرف داری کا الزام عائد کیا ہے۔ عرب نیوز کے مطابق خط میں بی بی سی کے موجودہ 100 سے زائد ملازمین نے ادارے کے بورڈ ممبر سر روبی گِب پر مبینہ طور پر مفادات کے ٹکراؤ کا الزام عائد کرتے ہوئے اْنہیں برطرف کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹِم ڈیوی اور ادارے کے بورڈ کو بھیجے گئے ملازمین کے اس خط سے قبل ادارہ کئی تنازعات کا شکار رہا ہے۔ان تنازعات میں گلسٹنبری کے میلے میں بی بی سی کی براہِ راست نشریات کے دوران برطانوی گلوکار باب وائلن کے اسرائیل مخالف نعروں اور غزہ پر دستاویزی فلم نہ دکھانے کے معاملات بھی شامل تھے۔خط میں لکھا گیا ہے کہ ’بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بی بی سی کا ادارہ اسرائیلی حکومت اور فوج کے حق میں مہم چلا رہا ہے۔ یہ بی بی سی میں موجود ہر ایک کے لیے انتہائی شرم اور تشویش کی بات ہونی چاہیے۔‘جن شخصیات نے اس خط پر دستخط کیے ہیں ان میں اداکارہ مریم مارگولیس، فلم ساز مائیک لی، اداکار چارلس ڈانس، مورخ ولیم ڈیلریمپل اور دیگر شامل ہیں۔ان شخصیات کا دعویٰ ہے کہ ’غزہ کے حوالے سے بی بی سی کی کوریج اس کے ادارتی معیارات سے ’کم ہے‘ اور یہ زمینی حقائق کی عکاسی کرنے میں ناکام رہی ہے۔‘اس خط میں بی بی سی کی جانب سے غزہ میں کام کرنے والے ڈاکٹروں پر بنوائی گئی دستاویزی فلم (غزہ: ڈاکٹرز انڈر اٹیک) نشر نہ کرنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جسے اب چینل 4 نشر کرے گا۔بی بی سی کا موقف یہ ہے کہ فلم کو اس لیے نشر نہیں کیا گیا کیونکہ اس سے جانب داری کا تاثر پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔خط کے مطابق ’یہ ایک سیاسی فیصلہ معلوم ہوتا ہے اور یہ صحافتی معیار کی عکاسی نہیں کرتا۔