بی جے پی آفس میں جس کی کرسی نہیں وہ چیف منسٹر کی کرسی پر تبصرہ نہ کریں

   

مہیشور ریڈی کو رکن پارلیمنٹ کرن کمار ریڈی کا مشورہ، 10 ماہ میں بی آر ایس کے دس سالہ دور سے زیادہ فلاحی کام
حیدرآباد۔/3نومبر، ( سیاست نیوز) کانگریس رکن پارلیمنٹ سی ایچ کرن کمار ریڈی نے کہا کہ گذشتہ 10 ماہ میں چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ایک بھی چھٹی نہیں لی ہے اور انتخابی وعدوں کی تکمیل کے ذریعہ فلاحی اسکیمات پر عمل آوری میں مصروف ہیں۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ نے بی آر ایس قائدین کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت کے دس ماہ کی تکمیل پر زوال کی توقع کی جارہی ہے حالانکہ حکومت کے پاس عوام کی خدمت کیلئے مزید چار سال باقی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس دس برسوں تک اقتدار میں رہی اور عوامی مسائل کو فراموش کردیا گیا۔ ہریش راؤ اور کے ٹی آر دس ماہ میں بے صبری کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ کرن کمار ریڈی نے کہا کہ 10 سالہ بی آر ایس کے دور سے کانگریس کے 10 ماہ کی حکمرانی میں زیادہ فلاحی اسکیمات کا آغاز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کو عوام نے مسترد کردیا اور اس کے دوبارہ ابھرنے کا سوال ہی نہیں۔ رکن پارلیمنٹ نے انتخابی وعدوں کی تکمیل کا حوالہ دیتے ہوئے چیف منسٹر ریونت ریڈی کی ستائش کی اور کہا کہ انتخابی وعدوں کی تکمیل میں دیگر ریاستوں کے مقابلہ ریکارڈ قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سونیا گاندھی کی جانب سے علحدہ تلنگانہ کی تشکیل کے سبب کے سی آر تلنگانہ کے چیف منسٹر بن سکے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کی ہے اور عوام کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ کرن کمار ریڈی نے کہا کہ 16 برسوں کے بعد سوشیل ویلفیر ہاسٹل کے طلبہ کے میس چارجس اور کاسمیٹک چارجس میں اضافہ کیا گیا اور کانگریس حکومت کا کارنامہ ہے۔ دس سال میں بی آر ایس نے جو نہیں کیا اسے دس ماہ میں کانگریس حکومت نے کردکھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دس ماہ میں 50 ہزار سے زائد تقررات کئے گئے۔ انہوں نے بی آر ایس قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ حکومت کو تعمیری اپوزیشن کے طور پر تجاویز پیش کریں اور غیرضروری تنقیدوں سے گریز کریں۔ بی جے پی رکن اسمبلی مہیشور ریڈی کی جانب سے چیف منسٹر کی تبدیلی سے متعلق بیان پر رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ مہیشور ریڈی کو بی جے پی آفس میں کرسی اور آفس تک نہیں ہے اور وہ چیف منسٹر کی کرسی پر تبصرہ کررہے ہیں۔ جس شخص کی خود اپنی پارٹی میں عزت نہیں وہ حکومت اور چیف منسٹر کے بارے میں کیا تبصرہ کرسکتے ہیں۔1