اپوزیشن پارٹیوں کیلئے ہتھیار، پارٹی قیادت سے نظرانداز و اہمیت گھٹانے کی کوشش
حیدرآباد۔10فروری(سیاست نیوز) بھارتیہ جنتا پارٹی کو داخلی اختلافات سے نمٹنے میں ہونے والی دشواریوں اور اپوزیشن کو حکومت پر تنقید کے لئے مواقع فراہم کرنے والے ارکان پارلیمان ورون گاندھی اور برج بھوشن شرن سنگھ بی جے پی قیادت کے لئے درد سر بنے ہوئے ہیں اور پارٹی قیادت ان کے طرز عمل کو نظرانداز کرنے کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے۔ ورون گاندھی جو کہ اپنی ہی پارٹی کی کئی پالیسیوں پر برسرعام تنقید اور مضامین کی تحریر کے ذریعہ حکومت کو درست راستہ دکھانے کی کوشش کر تے رہے ہیں وہ پارٹی کے لئے مشکلات کھڑی کرنے لگے ہیں۔ سیاسی ماہرین کا کہناہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں رہتے ہوئے پارٹی کے فیصلوں کے خلاف رائے کا اظہار کرنے کے معاملہ میں پارٹی قیادت کی جانب سے نظرانداز کرتے ہوئے ان کی اہمیت کو گھٹانے کی کوشش کی جار ہی ہے لیکن مختلف گوشوں کی جانب سے ورون گاندھی کے کسان آندولن‘ اگنی ویر کے علاوہ جی ایس ٹی اور دیگر امور پر تبصروں کو کافی اہمیت دیتے ہوئے بی جے پی کے لئے مشکل کھڑی کردی تھی۔ ورون گاندھی جو کہ پارٹی کے تنظیمی امور کے علاوہ انہیں حکومت میں مناسب جگہ نہ دیئے جانے کے بعد سے مخالف پارٹی سرگرمیوں میں ملوث نظر آرہے ہیں ان کا کہناہے کہ انہیں اقتدار سے کوئی مطلب نہیں ہے لیکن جو غلط ہورہا ہے وہ اس پر آواز اٹھاتے رہیں گے۔ ورون گاندھی کے متعلق گذشتہ کئی برسوں سے کہاجاتا رہا ہے کہ وہ سماج وادی پارٹی کے رابطہ میں ہیں اور حالیہ عرصہ میں راہول گاندھی سے جب یہ دریافت کیا گیا کہ آیا وہ ورون گاندھی سے ملاقات کریں گے تو راہول گاندھی نے کہا کہ ورون ان کے بھائی ہیں وہ ان سے ملاقات کریں گے اورانہیں قبول کرسکتے ہیں لیکن ان کے نظریہ کو قبول نہیں کرسکتے ۔ اسی طرح قیصر گنج سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ بھی پارٹی کے لئے مشکلات کھڑے کرنے والے ثابت ہورہے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ حکومت اترپردیش اور انتظامیہ پر متعدد مرتبہ ایسے بیان دے چکے ہیں جو کہ پارٹی کے اصولوں کے خلاف ہیں لیکن اس پر بھی بی جے پی نے خاموشی اختیار کررکھی ہے ۔ حالیہ عرصہ میں رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا نے احتجاج کرتے ہوئے متعدد الزامات عائد کئے ہیں۔برج بھوشن گذشتہ ماہ بابا رام دیو کے خلاف بیان دینے کے بعد بھی کئی دنوں تک سرخیوں میں رہے اور اب ریسلرس کی شکایت کے بعد وہ سرخیوں میں ہیں جو کہ اپوزیشن جماعتوں کے لئے ہتھیار بن رہا ہے۔م