بی جے پی بی سی طبقات کے 42 فیصد تحفظات کی مخالف: کویتا

   

چیف منسٹر کل جماعتی وفد کو وزیراعظم اور صدر جمہوریہ سے ملاقات کرائیں
حیدرآباد ۔ 6 ۔ اگست (سیاست نیوز) بی آر ایس کی ایم ایل سی و تلنگانہ جاگرتی کی صدر کے کویتا نے بی جے پی کو بی سی تحفظات کی مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کے عوام بی جے پی کے رویہ کا سخت نوٹ لے رہے ہیں ۔ مقامی اداروں کے انتخابات میں بی جے پی کو سبق سکھائیں گے۔ آج اپنی پارٹی آفس پر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کویتا نے کانگریس کے دہلی میں منعقدہ احتجاج پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی اور چیف منسٹر ریونت ریڈی بی سی طبقات کے 42 فیصد تحفظات کیلئے سنجیدہ ہیں تو تلنگانہ کے کل جماعتی وفد کو دہلی لے جائیں ، وزیراعظم نریندر مودی اور صدر جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کراتے ہوئے بی سی تحفظات کے بل کو منظوری دلانے کی کوشش کریں۔ کویتا نے بی سی تحفظات کی فہرست میں مسلمانوں کی شمولیت پر مرکزی مملکتی وزیر داخلہ بنڈی سنجے کے اعتراض کو مسترد کردیا اور کہا کہ بنڈی سنجے کو سوائے مسلمانوںکی مخالفت کے دوسرا کوئی کام نہیں ہے اور نہ ہی ان کے بیانات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تلنگانہ جاگرتی نے بی سی طبقات کے 42 فیصد تحفظات کیلئے اندرا پارک پر 72 گھنٹوں کا بھوک ہڑتال شروع کیا تھا ، تاہم ہائی کورٹ کی ہدایت کا احترام کرتے ہوئے احتجاج سے دستبرداری اختیار کرلی گئی۔ تاہم تلنگانہ جاگرتی بی سی تحفظات کے معاملہ میں انتہائی سنجیدہ ہے، مختلف طریقوں سے ریاستی اور مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالنے کیلئے بہت جلد اپنی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔2