بی جے پی کو اقتدار ملنے پر میونسپل کارپوریشن کی مشکلات میں اضافہ

   

عہدیداروں اور ملازمین کو اندیشے، ترقیاتی پراجکٹس کیلئے ریاستی حکومت کا تعاون ضروری، کارپوریشن مالیاتی بحران میں
حیدرآباد۔گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن پر قبضہ کیلئے ایک طرف سیاسی جماعتیں ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہیں تو دوسری طرف بلدیہ کے عہدیدار اور ملازمین نتائج کے بارے میں اس لئے فکر مند ہیں کہ بی جے پی کے برسراقتدار آنے کی صورت میں کارپوریشن کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ جی ایچ ایم سی انتخابات میں ٹی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان کانٹے کی ٹکر ہے اور دونوں بلدیہ پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کررہے ہیں۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتوں میں بی جے پی کو زائد نشستوں کے حصو ل کی صورت میں کارپوریشن کی مشکلات میں اضافہ ہوگا کیونکہ ریاستی حکومت کے تعاون کے بغیر کارپوریشن کسی بھی ترقیاتی پراجکٹ کا آغاز نہیں کرسکتا۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ کارپوریشن پہلے ہی معاشی مشکلات سے گذررہا ہے اور لاک ڈاون کی صورتحال کے دوران ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے سلسلہ میں حکومت نے تعاون کیا تھا۔ اگر بلدیہ میں ترقیاتی سرگرمیوں کو برقرار رکھنا ہے تو ٹی آر ایس کا دوبارہ کارپوریشن میں برسراقتدار آنا ضروری ہے۔ بی جے پی کو زائد نشستوں کی صورت میں حکومت کے ساتھ ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے ایسے میں عہدیداروں اور ملازمین کو اندیشہ ہے کہ وہ دونوں پارٹیوں کے درمیان نشانہ بن جائیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ اگر بی جے پی کو 30 سے زائد نشستیں حاصل ہوتی ہیں تو کارپوریشن میں اس کی مداخلت میں اضافہ ہوگا اور حکومت سے ٹکراؤ کے نتیجہ میں کارپوریشن کو فنڈز کا حصول مشکل ہوجائے گا۔ کارپوریشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملازمین کی تنخواہوں کے سلسلہ میں ادارہ کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ حکومت نے جی ایچ ایم سی کو اپنی ضمانت پر ترقیاتی قرض حاصل کرنے کی اجازت دی ہے۔ ایسے میں اگر بی جے پی کا اثر کارپوریشن میں بڑھتا ہے تو حکومت اپنی ضمانت سے دستبرداری اختیار کرسکتی ہے۔ مجالس مقامی کی بہتر کارکردگی اور ترقیاتی اسکیمات پر بلارکاوٹ عمل آوری کیلئے برسراقتدار پارٹی کا تعاون ناگزیر ہوتا ہے ایسے میں اپوزیشن جماعتوں کو مجالس مقامی میں اکثریت کا حاصل ہونا حکومت کے ساتھ ٹکراؤ کا سبب بن جائے گا۔