بی سی تحفظات پر تلنگانہ کابینہ کا اہمیت کا حامل فیصلہ

   

ریزرویشن کی 50 فیصد حد ختم کردی گئی۔ اسمبلی اجلاس کے بعد خصوصی جی او جاری کیا جائے گا
حیدرآباد ۔ 30 اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ کابینہ نے ایک اہمیت کا حامل فیصلہ کرکے ریزرویشن کی حد (50 فیصد) ختم کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ آج اسمبلی کمیٹی ہال میں کابینہ کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا اور ساتھ ہی پنچایت راج ایکٹ 2018ء میں ترمیم کو بھی منظوری دی گئی۔ سابق حکومت کی جانب سے ریزرویشن کی حد کے تعلق سے جاری آرڈیننس کی جگہ اسمبلی میں خصوصی بل منظور کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسمبلی اجلاس کے بعد خصوصی جی او جاری کرکے ذات پات کی مردم شماری کی بنیاد پر تلنگانہ میں بی سی طبقات کیلئے 42 فیصد تحفظات دینے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ تلنگانہ ہائیکورٹ نے اندرون تین ماہ مقامی اداروں کے انتخابات کرانے کی حکومت کو ہدایت دی۔ سابق بی آر ایس حکومت نے سال 2018ء میں ریزرویشن کی حد 50 فیصد سے زیادہ نہ ہونے کا آرڈیننس جاری کیا تھا جس پر موجودہ حکومت نے ایک آرڈیننس جاری کرتے ہوئے راج بھون کو روانہ کردیا تھا۔ فی الحال بی سی طبقات کا 42 فیصد ریزرویشن صدرجمہوریہ شریمتی دروپدی مرمو کے پاس زیرالتواء ہے جس پر حکومت کی جانب سے آرڈیننس کو منظوری نہ ملنے کی صورت میں جی او جاری کرتے ہوئے اس پر عمل آوری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس جی او کے ذریعہ نئے تحفظات کے قواعد پر عمل کیا جائے گا۔ جی او پر عمل آوری سے بی سی طبقات کو تعلیم، ملازمت اور پنچایت انتخابات میں مزید زیادہ نمائندگی ملے گی۔2