بی سی طبقات کی فلاح و بہبود کیلئے کانگریس نے کچھ نہیں کیا: کویتا

   

نہرو نے کالیکر رپورٹ کو نظرانداز کیا، راجیو گاندھی نے بی سی طبقات کے خلاف خطاب کیا
حیدرآباد 18 مارچ (سیاست نیوز) بی آر ایس ایم ایل سی کے کویتا نے کہا کہ کانگریس کی وجہ سے ملک میں بی سی طبقات کو نقصان پہنچا ہے۔ آج قانون ساز کونسل میں بی سی ریزوریشن بل کے مباحث میں کویتا نے یاد دلایا کہ کانگریس اور اس کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے کالیکر کمیٹی ررپورٹ کو نظرانداز کیا۔ اندرا گاندھی نے 10 سال تک منڈل کمیشن کی رپورٹ پر عمل نہیں کیا۔ وی پی سنگھ حکومت نے 1990 میں اس پر عمل کیا۔ تب تک کانگریس نے بی سی طبقات کے بارے میں کوئی ٹھوس فیصلے نہیں کئے۔ پارلیمنٹ میں راجیو گاندھی نے بی سی طبقات کے خلاف خطاب کیا۔ بی سی طبقات کو تحفظات پر ملک میں خانہ جنگی پیدا ہونے کے اندیشہ کا اظہار کیا۔ 2011 میں اس وقت کی یو پی اے حکومت نے 4300 کروڑ روپے خرچ کرکے بی سی طبقات کی مردم شماری کروائی مگر اس کی رپورٹ آج تک منظر عام پر نہیں لائی۔ اس مسئلہ پر راہول اور سونیا گاندھی نے بات نہیں کی۔ بی سی طبقات کیلئے مودی حکومت سے تشکیل دی گئی روہنی کمیشن کی رپورٹ مرکزی حکومت نے آج تک منظرعام پر نہیں لائی۔ بی سی طبقات کو 42 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا کانگریس نے کاماریڈی ڈیکلریشن میں اعلان کیا۔ کس حساب سے کانگریس 42 فیصد تحفظات فراہم کا وعدہ کیا ہے اس کی وجوہات آج تک عوام کے سامنے نہیں لائی گئی ۔ اقتدار کے 9 ماہ بعد ڈیڈیکیٹڈ کمیشن قائم کیا گیا اس کی رپورٹ بھی منظر عام پر نہیں لائی۔ رپورٹ کو فوری منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا۔ بی سی طقات کی مردم شماری کے تعلق سے کئی شکوک و شبہات ہیں۔ بی آر ایس نے اس پر کئی مرتبہ احتجاج کرکے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ جو لوگ مردم شماری سے محروم ہوگئے ہیں ان تمام کے ناموں کو شامل کیا جائے لیکن حکومت نے عوام کو بالخصوص پسماندہ طبقات کو اعتماد میں لینے میں ناکام رہی، باوجود اس کے بی آر ایس بی سی طبقات کی فلاح و بہبود کیلئے اس بل کی مکمل تائید و حمایت کررہی ہے۔ 2