ہائی کورٹ کو رپورٹ پیش کی جائے، بی سی طبقات کے مطالبہ کے حق میں اہم فیصلہ
حیدرآباد۔/10 ستمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ تین ماہ میں بی سی طبقات کی مردم شماری کا عمل مکمل کرلے۔ چیف جسٹس الوک ارادھے اور جسٹس سرینواس راؤ پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ مردم شماری مکمل کرنے کے بعد ہائی کورٹ میں رپورٹ پیش کی جائے۔ ریاست میں بی سی طبقات کی مردم شماری کے حق میں 2019 میں ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔ بی سی سنگھم کے قائد وائی ستیہ نارائنا نے یہ پٹیشن دائر کی تھی۔ چیف جسٹس الوک ارادھے کے اجلاس پر آج درخواست کی سماعت ہوئی اور درخواست گذار کی جانب سے بی سی زمرہ بندی سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات کا حوالہ دیا گیا۔ ایڈوکیٹ جنرل سدرشن ریڈی نے بتایا کہ حکومت بی سی زمرہ بندی کے معاملہ میں سنجیدہ ہے اور حکومت نے تلنگانہ بی سی کمیشن کی تشکیل عمل میں لائی ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ بی سی کمیشن کے ذریعہ مردم شماری کا عمل شروع کیا جائے گا۔ بی سی سنگھم کے ریاستی صدر وائی ستیہ نارائنا کی جانب سے سرینواس یادو ایڈوکیٹ نے بحث کی اور بی سی طبقات کی مردم شماری کی ضرورت اور اہمیت سے واقف کرایا۔ ہائی کورٹ نے درخواست کی سماعت کو مکمل کرتے ہوئے حکومت کو اندرون تین ماہ بی سی مردم شماری مکمل کرنے اور ہائی کورٹ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ ملک میں بی سی طبقات کی زمرہ بندی کی مہم کے پس منظر میں تلنگانہ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ اہمیت کا حامل ہے۔ کانگریس پارٹی نے قومی سطح پر ذات پات پر مبنی زمرہ بندی کا مطالبہ کیا ہے اور کانگریس زیر اقتدار ریاستوں میں زمرہ بندی کی مساعی شروع کی گئی۔ تلنگانہ میں حکومت نے بی سی طبقات کے تحفظات میں اضافہ کے بعد ہی مجالس مقامی کے انتخابات کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کے موقف کی سماعت کے بعد ہائی کورٹ نے اندرون تین ماہ مردم شماری کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے بی سی مردم شماری کی راہ ہموار کی ہے۔ ریاست میں ذات پات پر مبنی مردم شماری کی صورت میں تمام طبقات کی حقیقی آبادی کا پتہ چل سکتا ہے۔1