پٹنہ: بہار پبلک سروس کمیشن (بی پی ایس سی) کے 70 ویں ابتدائی امتحان میں مبینہ دھاندلی کے خلاف پیرکے روز سینکڑوں امیدواروں نے پٹنہ کی سڑکوں پر احتجاج کیا۔ مشہور معلم ’خان سر‘ بھی اس احتجاج میں شامل ہوگئے اور مطالبہ کیا کہ بی پی ایس سی کو دوبارہ امتحان منعقد کرنا چاہیے۔ امیدوارگزشتہ 62 دنوں سے شفاف امتحانی عمل کے مطالبے کے ساتھ احتجاج کر رہے ہیں۔ خان، احتجاجی امیدواروں کے ہمراہ گردنی باغ دھرنا استھل کی طرف مارچ کر رہے تھے اور ان کے پاس مبینہ بے ضابطگیوں کے ثبوت بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس ایسے ثبوت ہیں جو پٹنہ ہائی کورٹ کو امتحان دوبارہ کروانے پر مجبورکرسکتے ہیں۔ امتحان کی دوبارہ انعقاد کی مانگ عدالتی جانچ کے دائرے میں بھی ہے۔ پہلی سماعت 16 جنوری کو ہوئی تھی، جس میں ہائی کورٹ نے بی پی ایس سی کو حکم دیا تھا کہ وہ31 جنوری تک حلف نامہ جمع کرائے۔ تاہم کئی مرتبہ کیس لسٹ ہونے کے باوجود اس پر سماعت نہیں ہوئی ۔ عدالت میں کئی عرضیاں جمع کروائی گئی ہیں، جن میں جن سْراج (پرشانت کشورکی پارٹی)، پورنیہ کے ایم پی پپو یادو اور خان سرکی عرضیاں بھی شامل ہیں، جن میں امتحان کی منسوخی اور احتجاج کرنے والے امیدواروں کے خلاف درج ایف آئی آرکو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ خان سر نے امتحانی عمل میں بڑی خامیوں کا الزام لگاتے ہوئے کہاکہا کہ یہ امتحان 13 ڈسمبر کو منعقد کیا گیا تھا جس کے لئے تین سیٹ امتحانات کے پرچے بنے تھے لیکن امتحان کے بعد باقی دو پرچے جمع نہیں کئے گئے ۔