نئی دہلی : آگرہ میں مغلیہ دور کی مشہور یادگار تاج محل کو پراپرٹی کا ٹیکس اور پانی کا بل موصول ہوا ہے۔آرکیالوجی سروے آف انڈیا نے کہا ہیکہ ٹیکس اور پانی کے بل غلطی سے بھیجے گئے۔370 برس کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا کہ تاج محل کو پراپرٹی کا ٹیکس اور پانی کا بل بھیجا گیا ہے۔آرکیالوجی سروے آف انڈیا کے مطابق پراپرٹی کا ٹیکس ایک کروڑ 40 لاکھ اور پانی کا بِل تقریباً ایک کروڑ روپے ہے۔ اترپردیش کی حکومت نے آگرہ کے قلعہ کو بھی 5 کروڑ روپے سے زیادہ کا ٹیکس نوٹس بھیجا ہے۔ آرکیالوجی سروے آف انڈیا کے افسر ڈاکٹر راج کمار پٹیل نے بتایا کہ ایک نوٹس آگرہ کے قلعہ اور دو نوٹس تاج محل کو بھیجے گئے۔ان کے مطابق یہ غلطی سے بھیجے گئے کیونکہ تاریخی عمارات پر ٹیکسز لاگو نہیں ہوتے۔اترپردیش سمیت دیگر ریاستوں میں بھی تاریخی عمارتوں سے ٹیکس وصول نہیں کیے جاتے۔