حیدرآباد۔26۔ مئی (سیاست نیوز) ملک میں فرقہ پرست طاقتوں کی جانب سے مساجد کو نشانہ بنانے کی مہم کا اثر آگرہ کے تاریخی تاج محل میں دیکھا گیا۔ تاج محل کی مسجد میں نماز کی ادائیگی پر چار نوجوانوں کو حراست میں لے لیا گیا جن میں تین کا تعلق حیدرآباد سے بتایا جاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق حیدرآباد کے 3 اور اعظم گڑھ کا ایک نوجوان تاج محل کی سیر کیلئے پہنچے تھے۔ کل شام تاج محل کی سیر کے دوران جب نماز کا وقت آگیا تو چاروں نے تاج محل کے احاطہ میں واقع تاریخی شاہی مسجد میں نماز ادا کی ۔ نماز کے فوری بعد سیکوریٹی پر تعینات سی آئی ایس ایف کے جوانوں نے انہیں حراست میں لے لیا اور تاج گنج پولیس اسٹیشن کے حوالے کردیا۔ پولیس کے مطابق شاہی مسجد میں نماز کی ادائیگی پر سی آئی ایس ایف کے عہدیداروں نے حراست میں لے کر ان کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی۔ گرفتار نوجوانوں کے ساتھ تفریح کیلئے آئے ہوئے لکھنو کے ونئے کمار ڈکشٹ نے بتایا کہ حیدرآباد کے 3 اور اعظم گڑھ کا ایک نوجوان چہارشنبہ کو آگرہ پہنچے۔ تاج محل کے مشاہدہ کیلئے ہر کوئی الگ الگ گھوم رہا تھا۔ شام کو جب نماز کا وقت ہوا تو چاروں نوجوانوں نے شاہی مسجد میں نماز ادا کی۔ پولیس نے کئی گھنٹوں تک پوچھ تاچھ کے بعد دفعہ 153 کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے مطابق تاج محل کے احاطہ میں واقع شاہی مسجد میں صرف جمعہ اور عیدین کو نماز ادا کرنے کی اجازت ہے۔ ر