تاریخی چارمینار کی گھڑی میں خرابی کو دور کردیا گیا

   

کبوتروں سے ایک گھڑی کو معمولی نقصان، سیاحوں نے کی نشاندہی

حیدرآباد۔/30 جولائی ، ( سیاست نیوز) تاریخی چارمینار کی 135 سالہ قدیم گھڑی کو کسی نامعلوم شئے کے ٹکرانے سے نقصان پہنچا۔ چارمینار کی چار سمتوں میں گھڑی موجود ہے جو بتایا جاتا ہے کہ 135 سال قبل نصب کی گئی تھی۔ اس تاریخی گھڑی نے چارمینار کی خوبصورتی میں اضافہ کردیا ہے۔ مشرقی سمت میں واقع گھڑی کو نقصان پہنچا جس کا مشاہدہ سیاحوں نے کیا اور نقصان شدہ حصہ کی تصاویر اور ویڈیوز سوشیل میڈیا میں وائرل کئے۔ بتایا جاتا ہے کہ پیر کے دن حکام کو تاریخی گھڑی میں نقصان کی اطلاع ملی جس کے تحت گھڑی کے نچلے حصہ میں جہاں 25 منٹ دکھائے جاتے ہیں وہاں گھڑی میں سوراخ دیکھا گیا۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا حکام کے مطابق کبوتروں کے سبب گھڑی کو نقصان پہنچا ہے۔ اس تاریخی گھڑی کی تنصیب اور نگہداشت مشہور واحد واچ کمپنی کے تحت ہے۔ واحد واچ کمپنی کے گھڑی ساز وقتاً فوقتاً چار سمتوں میں موجود گھڑیوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ کسی بھی خرابی یا وقت میں غلطی کی صورت میں فوری سدھار کیا جاتا ہے۔ آرکیالوجیکل سروے کے عہدیداروں نے گھڑی میں خرابی کی واحد واچ کمپنی حکام کو اطلاع دی۔ کمپنی کے نمائندہ ربانی کے مطابق گھڑی کو درست کردیا گیا ہے اور جس حصہ میں سوراخ تھا اس کی مرمت کردی گئی۔ چاروں سمت میں واقع گھڑی میں ایک ہی وقت ہوتا ہے اور لوگ چارمینار کی گھڑی سے اپنی گھڑی کا وقت ملا لیتے ہیں۔ تاریخی چارمینار سلاطین قطب شاہی کے پانچویں بادشاہ نے 1591 میں تعمیر کیا تھا اسے 4 میناروں کی موجودگی کے سبب چارمینار سے موسوم کیا گیا۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا عمارت کی نگہداشت کرتی ہے۔ 2014 میں علحدہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد حکومت نے سرکاری ایمبلم میں چارمینار کی تصویر شامل کی اور ساتھ میں کاکتیہ دور حکومت کی یادگار کمان کو شامل کیا گیا۔ تاریخی چارمینار دیکھنے کیلئے روزانہ ہزاروں سیاح ملک اور بیرون ملک سے پرانے شہر کا رخ کرتے ہیں۔1