تبلیغی جماعت کے اجتماع کیلئے فنڈز کا معاملہ ہائی کورٹ پہنچ گیا

   

حکومت، وقف بورڈ اور تبلیغی جماعت کو نوٹس کی اجرائی،23 جنوری کو آئندہ سماعت
حیدرآباد۔/3 جنوری، ( سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے تبلیغی جماعت کے اجتماع کے موقع پر ضروری سہولتوں کی فراہمی کے مقصد سے فنڈز کی اجرائی کا معاملہ تلنگانہ ہائی کورٹ پہنچ گیا۔ بی جے پی میناریٹی مورچہ کے صدر محمد افسر پاشاہ نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے حکومت کے اقدام کی مخالفت کی۔ جسٹس نگیش بھیما پاکا نے درخواست کی سماعت کرتے ہوئے چیف سکریٹری تلنگانہ، سکریٹری اقلیتی بہبود، ضلع کلکٹر وقارآباد، چیف ایگزیکیٹو آفیسر تلنگانہ وقف بورڈ اور تبلیغی جماعت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 23 جنوری تک جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ 6 تا 8 جنوری وقارآباد ضلع کے پرگی میں تبلیغی جماعت کا 6 روزہ اجتماع مقرر ہے۔ درخواست گذار نے عدالت سے درخواست کی کہ انتظامات کیلئے حکومت کی جانب سے 2.45 کروڑ کی اجرائی سے متعلق احکامات کالعدم کردے۔ درخواست گذار کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ حکومت کو اختیار نہیں ہے کہ وہ وقف فنڈ کو اپنے طور پر الاٹ کرے۔ انہوں نے کہا کہ کسی غیر سرکاری ادارہ کو فنڈ جاری کرنا وقف ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت سے درخواست کی گئی کہ اگر رقم جاری کردی گئی تو اسے واپس لیا جائے۔ جسٹس نگیش بھیما پاکا نے حکومت اور عہدیداروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 23 جنوری تک جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اسی دوران بی جے پی میناریٹی مورچہ کے ریاستی صدر افسر پاشاہ کا ایک آڈیو سوشیل میڈیا میں وائرل ہوا جس میں انہوں نے کہا کہ پارٹی کے دباؤ کے تحت ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔ انہوں نے کالر کو تیقن دیا کہ وہ ہائی کورٹ میں درخواست سے دستبرداری اختیار کریں گے۔1