تحفظات کی مخالفت نہیں کی جاسکتی، سربراہ آر ایس ایس موہن بھاگوت کی وضاحت

   

سماج ہنوز عدم مساوات کا شکار
تحفظات کی مخالفت نہیں کی جاسکتی، سربراہ آر ایس ایس موہن بھاگوت کی وضاحت

حیدرآباد۔28اپریل(سیاست نیوز) ملک میں آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے تحفظات کو ختم کرنے کی سازشوں کے متعلق ویڈیوز منظرعام پر آنے کے بعد اب آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کو اس بات کی وضاحت کرنی پڑی ہے کہ آر ایس ایس ہندستان میں تحفظات کی مخالف نہیں ہے۔ آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت نے شہر حیدرآباد میں منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ انہو ںنے بتایا کہ ان تک ایسی ویڈیوز پہنچ رہی ہیں جن میں یہ کہا جار ہاہے کہ آر ایس ایس ملک میں تحفظات کی مخالف ہے ۔ انہوں نے اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس نے تحفظات کی کبھی مخالفت نہیں کی ہے اور نہ ہی اسے برخواست کرنے کی بات کہی ہے۔ موہن بھاگوت نے دعویٰ کہا کہ آر ایس ایس کا نظریہ ہے کہ جب تک ضرورت ہو تحفظات کو برقرار رکھا جانا چاہئے اور اس سے استفادہ کرنے والوں کو تحفظات کے ثمرات پہنچائے جاتے رہنے چاہئے ۔ ہندستان میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے انتخابی مہم کے دوران ’اب کی بار 400 پار‘ کا جو نعرہ لگایا ہے اس کے جواب میں تیار کئے گئے ویڈیوز میں اس سازش کا انکشاف کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا جا رہاہے کہ ملک میں دستور کی تبدیلی کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی آر ایس ایس کے نظریات پر عمل کرتے ہوئے تحفظات کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اسی لئے بی جے پی کی جانب سے 400 پار کے نعرے دئیے جارہے ہیں۔ آر ایس ایس کے تحفظات کے متعلق نظریات پر مسلسل یہ کہا جاتا رہا ہے کہ آر ایس ایس مخالف تحفظات ہے اور وہ نہیں چاہتی کہ ہندستان میں کسی بھی طبقہ کو ذات پات یا ان کی پسماندگی کی بنیاد پر تحفظات فراہم کئے جائیں۔ ان ویڈیوز کے دوران آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے شہر حیدرآباد کے نواحی علاقہ میں منعقدہ ایک پروگرام کے دوران کہا کہ آر ایس ایس کبھی تحفظات کی مخالف نہیں رہی بلکہ ہمیشہ ہی آر ایس ایس نے تحفظات کی حمایت کی ہے ۔ انہو ںنے ان ویڈیوز کو جھوٹ پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس اس وقت تک تحفظات کی حامی ہے جب تک سماج میں ذات پات کی بنیاد پر بھید بھاؤ ہے ۔ انہو ںنے اس بات کا اعتراف کیا کہ سماج ابھی عدم مساوات کا شکار ہے اسی لئے تحفظات کی مخالفت نہیں کی جاسکتی۔ کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان تحفظات کے متعلق جاری بحث کے دوران آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے اس بیان کو کافی اہمیت دی جا رہی ہے۔3