بی سی ای زمرہ کو مسلم تحفظات قرار دینا غلط، مذہبی اساس کی بجائے صرف پسماندگی تحفظات کی بنیاد، وکلاء اور حکومت کے عہدیداروں کی حکمت عملی
حیدرآباد۔/12 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) سپریم کورٹ میں 4 فیصد مسلم تحفظات کے مقدمہ میں تلنگانہ حکومت نے موثر انداز میں پیروی کا فیصلہ کیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے سپریم کورٹ میں سماعت کے موقع پر سرکاری وکلاء کی جانب سے پیش کئے جانے والے دلائل کا جائزہ لیا اور محکمہ بی سی ویلفیر کے اعلیٰ عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ سپریم کورٹ میں سماعت کے موقع پر موجود رہیں تاکہ وکلاء کی اعانت کی جاسکے۔ بی سی ویلفیر عہدیداروں کے علاوہ مسلم تحفظات کی فراہمی میں بی سی کمیشن کے ذریعہ سفارش کرنے والے عہدیداروں کی خدمات بھی حاصل کی جاسکتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے سابق میں پیش کردہ دلائل کے برخلاف نئے انداز میں حکومت کا موقف پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ تحفظات کو مسلم یا فرقہ وارانہ دینے سے بچانے کا فیصلہ کیا گیا۔ حکومت کی سطح پر ماہرین قانون اور بی سی ویلفیر اور میناریٹیز ویلفیر کے اعلیٰ عہدیداروں کی رائے حاصل کی گئی۔ حکومت کے وکلاء سپریم کورٹ میں اس بات پر زور دیں گے کہ مسلم تحفظات کے نام سے کوئی تحفظات موجود نہیں ہیں۔ مسلمانوں میں معاشی، تعلیمی اور سماجی طور پر پسماندہ جن طبقات کو 4 فیصد تحفظات کے زمرہ میں شامل کیا گیا وہ مذہب کی بنیاد پر نہیں ہے بلکہ بی سی تحفظات میں ایک اضافی زمرہ E تشکیل دیا گیا ہے جس کے تحت مسلمانوں کے پسماندہ طبقات شامل ہیں۔ بی سی ای زمرہ کے 4 فیصد تحفظات کو مسلم تحفظات کا نام دینا غلط ہے۔ بعض گوشوں کی جانب سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے اور مخالفین کی جانب سے تحفظات کی مخالفت کے نتیجہ میں اسے مسلم تحفظات کا نام دے دیا گیا ہے جس کا کوئی قانونی وجود نہیں ہے۔ اسمبلی میں منظورہ بل بی سی تحفظات میں توسیع سے متعلق ہے۔ بی سی زمرہ کے تحت اے، بی، سی ، ڈی 4 زمرہ جات پہلے سے موجود ہیں جس میں E کا اضافہ کرتے ہوئے مسلمانوں میں شامل غریب اور پسماندہ خاندانوں کو تعلیم و روزگار میں ریزرویشن فراہم کئے گئے۔ وکلاء سے کہا گیا کہ وہ سپریم کورٹ پر واضح کردیں کہ تلنگانہ کے 4 فیصد تحفظات مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ خالص پسماندگی کی بنیاد پر ہیں۔ حکومت کو پسماندہ طبقات کے تحفظات میں زمرہ بندی کا مکمل اختیار حاصل ہے اور درخواست گذار مسلم تحفظات پر مباحث کے بجائے صرف تحفظات کی درجہ بندی پر سوال اٹھا سکتے ہیں۔ حکومت کو امید ہے کہ حقائق پر مبنی اور فرقہ وارانہ تحفظات کی نفی کرنے سے فیصلہ 4 فیصد بی سی ای کے حق میں آسکتا ہے۔ واضح رہے کہ 4 فیصد بی سی ای زمرہ کے تحفظات سے محکمہ اقلیتی بہبود کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ حکومت نے بی سی کمیشن کی سفارشات کی بنیاد پر تمام مسلمانوں کو نہیں بلکہ تعلیمی اور معاشی طور پر پسماندہ مخصوص طبقات کو فائدہ پہنچانے کی مساعی کی ہے۔ سپریم کورٹ میں بی سی ای زمرہ کے تحفظات کو چیلنج کرتے ہوئے مخالفین کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ تحفظات مذہب کی بنیاد پر فراہم کئے گئے ہیں۔ امید کی جارہی ہے کہ موجودہ چیف جسٹس یو یو للت کی میعاد کی تکمیل کے بعد ہی اس مسئلہ پر سماعت ہوگی۔ ماہرین نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ بی سی سی زمرہ میں کرسچن طبقات کو تحفظات فراہم کئے گئے لیکن اسے کرسچن تحفظات نہیں کہا جاتا تو پھر بی سی ای زمرہ کو مسلم تحفظات کا نام دے کر فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوششیں افسوسناک ہیں۔ر