تریپورہ کی شاعرہ کو ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈ

   

اگرتلہ : تریپورہ کی ممتاز منی پوری شاعرہ سورکھائبم گمبھینی کو منی پوری میں ان کی قابل ستائش شاعری کے لیے اس سال کے باوقار ساہتیہ اکادمی ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا ہے ۔گمبھینی کو نئے سال کے آغاز پر نئی دہلی میں منعقد ہونے والے ایک میگا ایونٹ میں آئین کے آٹھویں شیڈول میں شامل تمام ہندوستانی زبانوں کے دیگر فاتحین کے ساتھ اعزاز سے نوازا جائے گا۔ وہ سنسکرت میں پوسٹ گریجویٹ ہیں اور ان کا تعلق تریپورہ کے ڈھلائی ضلع کے بارہ سورما نامی دور دراز گاؤں سے ہے ۔ وہ اپنے اسکول کے زمانے سے ہی ادبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔گمبھینی، جو تریپورہ یونیورسٹی میں ہاسٹل وارڈن کے طور پر کام کرتی ہے ، نے نصف دہائی کی تحقیق کے بعد شاعری کی کتاب ‘یچھانگبا نانگ ہیلو’ لکھی، جو فلسفہ، زندگی اور انسانیت سے متعلق ہے اور اسے تریپورہ کے ایک پبلشر نے 2018 میں شائع کیا۔گمبھینی نے میڈیا کو بتایاکہ اگرچہ ساہتیہ اکادمی نے میرے منی پوری ادبی کام کو تسلیم کرنے پر غور کیا ہے ، لیکن میں نے بنگالی میں بھی بہت کچھ لکھا ہے اور ہندی ادبی سرگرمیوں میں شامل رہی ہوں،ان کی کامیابیوں پر انہیں مبارکباد دیتے ہوئے تریپورہ کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مانک ساہا نے کہا کہ یہ تریپورہ کے لوگوں کے لیے فخر کی بات ہے کہ گمبھینی کو ان کی منی پوری ادب کے لیے ساہتیہ اکادمی کا باوقار ایوارڈ ملا ہے ، جو دوسروں کی طرح اقلیتی زبانوں کو فروغ دے رہی ہے ۔