تشکیل تلنگانہ کے بعد پہلی مرتبہ گروپ 1 امتحانات ‘ ریاست میں پرسکون انعقاد

   

75 فیصد امیدواروں نے امتحان تحریر کیا ۔ پرچہ سوالات انتہائی مشکل رہا ۔ اندرون دو ماہ نتائج کی اجرائی

حیدرآباد۔16۔اکٹوبر(سیاست نیوز)تشکیل تلنگانہ کے بعد ریاست میں گروپ I کے ذریعہ تقررات کیلئے پہلے امتحان کا کامیاب انعقاد عمل میں لایا گیا۔ ریاست میں 1019 امتحانی مراکز پر گروپIامتحانات کیلئے تلنگانہ پبلک سروس کمیشن نے انتظامات کئے تھے اور امیدواروں کو قبل از وقت امتحانی مراکز پہنچنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ تلنگانہ پبلک سروس کمیشن کے مطابق ان امتحانات میں مجموعی اعتبار سے 75 فیصدیعنی 2لاکھ 86ہزار51 امیدواروں نے شرکت کی ۔ ذرائع کے مطابق امتحانات کے نتائج اندرون دو ماہ جاری کئے جائیں گے ۔ نتائج کی اجرائی کے بعد مین امتحانات کی تاریخ کا اعلان کیا جائیگا۔ 10:15 تک امیدواروں کو مراکز میں داخلہ کی اجازت دی گئی جبکہ کمیشن نے امیدواروں کو قبل از وقت امتحانی مراکز پہنچنے کی تاکید کی تھی ۔ حکومت نے گروپ Iکے 503عہدوں پر تقررات کیلئے اعلامیہ جاری کرکے تقررات کا اعلان کیا تھا ۔ ان 503 جائیدادوں کیلئے مجموعی اعتبار سے جملہ 3لاکھ 80ہزار81 امیدواروں نے امتحانات کیلئے اندراج کروایاتھا اور پری لمس میں کامیاب امیدواروں کیلئے مین امتحانات ہونگے۔ حکومت نے امتحانات میں نشانات اور میرٹ کی بنیاد پر تقررات کا فیصلہ کیا اور واضح کیا جاچکا ہے کہ ان میں کوئی انٹرویو نہیں ہوگا۔ متحدہ آندھراپردیش میں گروپ I امتحانات کا 2011 میں آخری مرتبہ انعقاد ہوا تھا اور312عہدوں پر تقررات کیلئے حکومت آندھراپردیش سے اعلامیہ جاری کیا گیا تھا اور 2014 میں تشکیل تلنگانہ کے بعد اب 2022 میں پہلی مرتبہ گروپI امتحانات کا انعقاد کیا گیا ہے ۔ امتحان سے قبل اور امتحان کے بعد نوجوانوں میں کافی جوش و خروش نظرآرہا ہے کیونکہ طویل عرصہ کے بعد پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ گروپI امتحانات منعقد کئے گئے ہیں اور سینکڑوں مخلوعہ جائیدادوں کو پر کرنے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔امتحان میں شریک امیدواروں کے مطابق گروپI امتحان کافی مشکل پرچہ سوال رہا اور تلنگانہ سے متعلق زائد از 20سوال کئے گئے جن میں سمکا سارکا جاترا ‘ رعیتو بندھو اسکیم‘ جامعہ عثمانیہ کے فن تعمیر کے علاوہ دیگر سوالات شامل تھے۔اس کے علاوہ پرچہ سوالات میں سائنس سے متعلق بھی سوالات تھے اور پرچہ سوال کا حل کیا جانا آسان نہیں تھا۔ماہرین کے مطابق پرچہ سوالات گروپ I کے امیدواروں کیلئے تیار کیا گیا تھا وہ کسی اعتبار سے یو پی ایس سی سے کم نہیں تھا۔بعض مراکز پر امیدواروں کو تاخیر کے سبب انہیں مرکز میں داخلہ کی اجازت نہیں دی گئی جس پر وہ مایوس تھے ۔ عہدیداروں نے واضح کیا کہ ہدایات کے مطابق امتحان کے وقت سے قبل مرکز پہنچنے کی تاکید کی گئی تھی اس کے باوجود 15منٹ کی رعایت دی گئی اس سے زیادہ تاخیر پر داخلہ سے نہ روکا جاتا تو امتحانی نظم و ضبط برقرار نہیں رہ پاتا اسی لئے وقت کی پابندی سختی کے ساتھ کی گئی ہے۔م