علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایم اے اسلامک اسٹیڈیز میں سناتھن دھرم کی تعلیم کا فیصلہ ، یونیورسٹی حکام کا اعلان
حیدرآباد۔4۔اگسٹ(سیاست نیوز) ملک میں تعلیم کو زعفرانی بنانے کی کوششوں کے متعلق متنبہ کئے جانے پر دانشور یہ کہتے رہے کہ حکومتیں ایسا نہیں کرسکتیں لیکن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں کئے جانے والے اقدامات سے اب یہ واضح ہونے لگا ہے کہ حکومت کی نگرانی میں اب تعلیم کو زعفرانی کرنے کے اقدامات کو عملی جامہ پہنایا جانے لگا ہے ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے ’’سناتھن دھرم‘‘ کو شامل نصاب کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ نصاب پوسٹ گریجویشن میں پڑھایا جائے گا۔ ایم اے اسلامک اسٹڈیز میں یونیورسٹی انتظامیہ نے سناتھن دھرم کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا اور اس سلسلہ میں پی آر او یونیورسٹی عمر سلیم پیرزادہ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اقامتی جامعہ ہے اور جامعہ میں تعلیم حاصل کرنے والے تمام مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں اسی لئے شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں سناتھن دھرم کی تعلیم کو شامل نصاب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ تمام مذاہب میں خدمت خلق کو خدمت خالق کا تصوردیا گیا ہے اسی لئے تقابلی مذہبی تعلیم کے طور پر اسے پیش کیا جارہا ہے۔ عمر سلیم پیرزادہ نے بتایا کہ اس یونیورسٹی میں شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں اسلامیات کے علاوہ دیگر مذاہب یہودیت ‘ عیسائیت ‘ بدھ ازم ‘ ہندو مت کے ساتھ سناتھن دھرم کی تعلیم بھی دی جائے گی اور اس کا آغاز آئندہ تعلیمی سال یعنی اب جو پی جی میں داخلہ حاصل کریں گے ہوجائے گا۔ صدر شعبہ ٔ اسلامک اسٹڈیز پروفیسر محمد اسمعیل نے بتایا کہ شعبہ میں سناتھن دھرم کی تعلیم دینے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے اس کے مطابق نصاب میں وید‘ پراناس‘ رامائن‘ اپا نیشد اور گیتا کے اسباق شامل رہیں گے ۔ انہو ںنے بتایا کہ شعبہ میں دی جانے والی تعلیم میں ہندو مت اور سکھ مت کے علاوہ دیگر مذاہب کی تعلیم بھی شامل ہے۔ گذشتہ دنوں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی انتظامیہ نے مولانا ابولاعلیٰ مودودی ؒ اور سید شاہ قطب شہید ؒ کی کتابوں کو نصاب سے خارج کرنے کافیصلہ کیا تھا اور اس کے متعلق پروفیسر محمد اسمعیل نے بتایا کہ تنازعہ سے بچنے کے لئے یونیورسٹی انتظامیہ نے یہ فیصلہ کیا ہے جبکہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اور سید شاہ قطب شہید ؒ کی کتابوں کو نصاب سے حذف کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بعض ماہرین تعلیم نے وزیر اعظم کو مکتوب روانہ کیا تھا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں سناتھن دھرم کوشامل نصاب کئے جانے کے فیصلہ پر مختلف گوشوں سے اعتراضـ بھی کیا جا رہاہے اور یونیورسٹی میں خدمات انجام دینے والے ماہرین تعلیم اور تدریسی عملہ کا کہناہے کہ انہیں سناتھن دھرم کو شامل نصاب کئے جانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن یونیورسٹی کو ایم ۔اے اسلامک اسٹڈیز کے نصاب میں سناتھن دھرم شامل کرنے کے بجائے اس کے لئے علحدہ شعبہ قائم کرنا چاہئے تاکہ جو طلبہ سناتھن دھرم کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ اس کورس میں داخلہ حاصل کرلیں لیکن اسلامک اسٹڈیز کے شعبہ میں سناتھن دھرم کو شامل نصاب کئے جانے پر نہ صرف طلبہ بلکہ یونیورسٹی کے تدریسی عملہ اور ماہرین تعلیم کے ذہنوں میں شبہات پیدا ہونے لگے ہیں۔م