تقررات کے روسٹر سسٹم میں مسلم تحفظات4 فیصد سے گھٹاکر 3 فیصدکردیئے گئے

   

(مسلم تحفظات پرہنوز راز داری )

نظم و نسق میں زعفرانی ذہنیت کار فرما، وزیر داخلہ کو بھی تازہ روسٹر پوائنٹس کی فراہمی سے گریز،مسلمانوں کو تقررات سے محروم کرنے کی سازش
حیدرآباد۔/6ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ نظم و نسق میں مخالف مسلم اقلیت عناصر کا غلبہ دکھائی دے رہا ہے۔ حکومت کی سطح پر بھلے ہی کوئی فیصلے کئے جائیں یا پھر اقلیتوں کے حق میں اعلانات کئے جائیں لیکن عمل آوری نظم و نسق کی ذمہ داری ہوتی ہے اور تلنگانہ کا موجودہ نظم و نسق تعصب پسند عناصر سے پُر دکھائی دے رہا ہے۔ یوں تو نظم و نسق میں شامل عہدیداروں کا فریضہ ہے کہ وہ حکومت کے کسی بھی فیصلہ پر من و عن عمل کریں لیکن مسلمانوں کو تعلیم و روزگار میں 4 فیصد تحفظات کے معاملہ میں عہدیداروں اور خاص طور پر جی اے ڈی کا رویہ ناقابل فہم ہے۔ درج فہرست قبائیل کو تحفظات میں 6 سے 10 فیصد تک اضافہ کے بعد سرکاری ملازمتوں میں تقررات کیلئے جو روسٹر سسٹم تیار کیا گیا اس میں مسلم تحفظات 4 سے گھٹ کر 3 فیصد ہوچکے ہیں لیکن اسے جی اے ڈی کے حکام درست کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ایس ٹی تحفظات میں اضافہ پر مسلمانوں کو کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلم تحفظات میں کمی کس کی ہدایت پر کی گئی۔ حکومت کے جی اے ڈی ڈپارٹمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ روسٹر پوائنٹس کو تیار کرے اور اسے تمام محکمہ جات کو روانہ کریں تاکہ تقررات کے موقع پر تحفظات پر عمل آوری ہوسکے۔ جی اے ڈی نے تلنگانہ اسٹیٹ سب آرڈینیٹ سرویس رولس 1998 کے رول 22A کے تحت ڈائرکٹ ریکروٹمنٹ کیلئے روسٹر پوائنٹس جاری کئے ان میں صرف تین مقامات پر بی سی ای تحفظات کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ چار مقامات پر بی سی ای تحفظات ہونے چاہیئے۔ نئے روسٹر پوائنٹس میں مسلم تحفظات میں کمی کا معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد مسلمانوں میں پھیلی بے چینی کو دیکھتے ہوئے چیف سکریٹری سومیش کمار کے دفتر سے ایک تردید جاری کی گئی۔ سومیش کمار اور جی اے ڈی کے کسی عہدیدار کے نام کے بغیر محض ایک وضاحتی بیان جاری کردیا گیا جس میں بی سی ای تحفظات کو گھٹانے کی تردید کی گئی اور روسٹر پوائنٹس میں چار مقامات کا حوالہ دیا گیا جہاں بی سی ای شامل ہیں۔ وضاحتی بیان میں 19،44 ، 69 اور 94 ویں مقام پر بی سی ای کی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا جبکہ جی اے ڈی کی جانب سے تیار کردہ روسٹر پوائنٹس میں 69 ویں مقام پر بی سی بی درج ہے۔ اگر مسلم تحفظات میں ناانصافی نہ ہوتی تو چیف سکریٹری اپنے نام سے وضاحت جاری کرتے۔ محض مسلمانوں کو مطمئن کرنے کیلئے ایک غیر واضح انداز میں وضاحت کردی گئی تاکہ یہ معاملہ ختم ہوجائے۔ دوسری طرف وزیر داخلہ محمد محمود علی نے روسٹر پوائنٹس میں تحریف کی بات کہی اور اس معاملہ کی جانچ کا اعلان کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ بہبودی پسماندہ طبقات کے عہدیداروں نے وزیر داخلہ کو روسٹر پوائنٹس کی کاپی فراہم کی جس میں بی سی ای کا چار مقامات پر تذکرہ موجود ہے۔ دراصل یہ روسٹر پوائنٹس ایس ٹی تحفظات میں اضافہ سے قبل کے ہیں۔ ایس ٹی تحفظات کو 10 فیصد کرنے کے بعد جو تازہ ترین روسٹر پوائنٹس طئے کئے گئے ان میں 69 ویں مقام پر بی سی ای کو شامل نہیں کیا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جی اے ڈی محکمہ آخر کس کے تحت ہے؟ ظاہر کہ چیف سکریٹری اور چیف منسٹر آفس کی راست نگرانی میں یہ محکمہ کام کرتا ہے۔ حکومت میں شامل واحد مسلم وزیر اور وہ بھی وزیر داخلہ محمد محمود علی کو جی اے ڈی کی جانب سے آج تک مصدقہ روسٹر پوائنٹس کی نقل روانہ نہیں کی گئی۔ دراصل عہدیدار اس دانستہ حرکت کو شاید درست کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں اور اگر عہدیداروں سے غلطی ہوئی ہے تو اس کی اصلاح کرتے ہوئے نیا روسٹر پوائنٹس عوام کیلئے جاری کیا جائے۔ عام طور پر روسٹر پوائنٹس پر تقررات کے وقت پبلک سرویس کمیشن یا پھر دوسرے ریکروٹمنٹ بورڈس کی جانب سے عمل کیا جاتا ہے۔ تعصب پسند عہدیدار شاید نہیں چاہتے کہ 4 فیصد تحفظات مسلمانوں کو حاصل ہوں۔ جی اے ڈی کی جانب سے حاصل کردہ تازہ ترین روسٹر پوائنٹ سائیکل میں صرف تین مقامات پر بی سی ای کا تذکرہ موجود ہے اور ایک فیصد کی کمی سے سینکڑوں مسلم امیدوار تقررات سے محروم ہوسکتے ہیں۔ چیف سکریٹری کی جانب سے اپنے نام کے بغیر جو وضاحت جاری کی گئی اسی سے اندیشہ دکھائی دے رہا تھا کہ درپردہ کچھ تو گڑبڑ ہے۔ حکومت نے ایس ٹی تحفظات میں اضافہ کرتے ہوئے جی او ایم ایس 33 مورخہ 30 ستمبر 2002 جاری کیا تھا جبکہ جی او ایم ایس 130 مورخہ 9 نومبر 2022 کے ذریعہ سب آرڈینیٹس سرویس رولس 1996 میں ترمیم کرتے ہوئے روسٹر پوائنٹس میں ان مقامات کا ذکر کیا گیا جہاں ایس ٹی تحفظات شامل کئے گئے ہیں۔ ان دونوں جی اوز کی اجرائی کے بعد جی اے ڈی نے جو روسٹر پوائنٹس سائیکل تیار کیا ہے اس میں مسلم تحفظات صرف 3 فیصد ہیں۔ چیف سکریٹری سے کئی قائدین اور اخبارات کے نمائندوں نے اس مسئلہ پر وضاحت طلب کی لیکن وہ صرف زبانی تردید پر اکتفاء کرتے رہے اور انہوں نے کسی کو نئے روسٹر پوائنٹس کی کاپی حوالے نہیں کی۔ وزیر داخلہ محمد محمود علی کو کم از کم نئے روسٹر سائیکل کی نقل حوالے کی جانی چاہیئے تاکہ وہ مسلمانوں کو مطمئن کرسکیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خود کو مسلم دوست قرار دینے والے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے نظم و نسق میں زعفرانی ذہنیت کے عہدیدار کس طرح سرگرم ہیں۔ بی سی ای تحفظات کو جان بوجھ کر کم کیا گیا تو اس کی منظوری آخر کس نے دی؟۔ چیف منسٹر نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کا وعدہ کیا تھا لیکن ان کے ماتحت عہدیدار موجودہ 4 فیصد کو ہی برداشت کرنے تیار دکھائی نہیں دیتے۔ عہدیداروں کو شاید یہ گمان ہے کہ مسلمان چیف سکریٹری کی بے نامی وضاحت سے مطمئن ہوکر خاموش ہوجائیں گے۔ مسلم عوامی نمائندوں اور رضاکارانہ تنظیموں کے علاوہ جہد کاروں کو چاہیئے کہ وہ قانون حق معلومات (RTI) کے ذریعہ چیف سکریٹری کے دفتر اور جی اے ڈی سے نئے روسٹر سائیکل کی نقل حاصل کریں تاکہ حقائق منظر عام پر آئیں۔ر