گریٹر حیدرآباد میں 200 سائبر آباد و ملکاجگری میں 100 ڈیویژن ، حد بندی جلد شروع ہوگی
حیدرآباد : 10جولائی ( سیاست نیوز) آوٹر رنگ روڈ کے دائرہ میں بلدیات کو ضم کر کے تشکیل دی گئی تین نئی کارپوریشنس میں ڈیویژنس کی حدبندی (Delimitation) کے عمل نے زور پکڑ لیا ہے ۔ حکومت نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن سائبرآباد میونسپل کارپوریشن اور ملکاجگری میونسپل کارپوریشن میں ڈیویژنس کی نئی حدبندی اور ردوبدل کے بعد انتخابات کا حتمی فیصلہ کیا ہے ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت کا منصوبہ ہے کہ اس سال نومبر تک بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں جس کیلئے حکام نے تیاریاں شروع کردی ہیں ۔ آبادی ، ووٹرس کی تعداد و جغرافیائی رقبے کی بنیاد پر ڈیویژنس کو ازسرنو منظم کیا جارہے ہے ۔ ابتدائی طور پر بلدیات کے انضمام کے بعد ڈیویژنس کی تعداد بڑھاکر 300 کی گئی تھی تاہم اب اس میں مزید 100 ڈیویژنس کا اضافہ کیا جارہاہے ۔ اس تبدیلی کے بعد تینوں کارپوریشنس میں جملہ 400 کارپوریٹرس کا انتخاب ہوگا ۔ جی ایچ ایم سی میں فی الحال 150 ڈیویژنس ہیں جنہیں بڑھاکر200 کردیا جائے گا ۔ توقع ہے کہ پرانے شہر کے مقابلے بیرونی اسمبلی حلقوں میں زیادہ ڈیویژنس بنیںگے ۔ اس اضافہ کے بعد میئر کے عہدہ پر قبضے کیلئے کسی بھی جماعت کو 200 میں سے 101 نشستوں پر کامیابی حاصل کرنی ہوگی ۔ سائبرآباد میونسپل کارپوریشن آبادی کے لحاظ سے سب سے گنجان علاقہ ہے ۔ موجودہ 76 ڈیویژنس میں مزید 24 کا اضافہ کیا جائے گا جس کے بعد یہاں جملہ ڈیویژنس کی تعداد 100ہوجائیگی ۔ ملکاجگری میونسپل کارپوریشن کے تحت موجو دہ 74 ڈیویژنس میں 26 نئے ڈیویژنس کا اضافہ کر کے اس کی تعداد بھی 100کردی جائیگی ۔ چارمینار ، ملک پیٹ ، بہادر پورہ ، یاقوت پورہ ، کاروان ، نامپلی ، گوشہ محل ، خیریت آباد ، مشیرآباد ، عنبرپیٹ اور سکندرآباد تمام اسمبلی حلقے مکمل طور پر جی ایچ ایم سی کے دائرہ کار میں ہون گے ، جبکہ حلقہ راجندر نگر ، جوبلی ہلز ، مہیشورم اور ابراہیم ٹنم کے علاقے جزوی طور پر جی ایچ ایم سی کی حدود میں آئیں گے ۔2