تقرر ہمدردی سے متعلق درخواست کو ہائی کورٹ نے مسترد کردیا

   

حیدرآباد۔ 5 اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ سرکاری ملازم کے انتقال کے کئی برسوں تک معاشی طور پر مستحکم خاندان ہمدردی کی بنیاد پر تقرر کا اہل نہیں ہوسکتا۔ چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی ایم محی الدین پر مشتمل بنچ نے ورنگل کی ایک خاتون کی درخواست کو مسترد کرکے یہ فیصلہ سنایا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گذار نے جن بنیادوں پر ہمدردی تقرر کی مانگ کی ہے وہ ناقابل قبول ہے۔ درخواست گذار جو بے روزگار ہے نے اپنے والد کی موت پر ایم جی ایم ہاسپٹل ورنگل میں تقرر ہمدردی کی درخواست کی تھی۔ 2018 میں والد کا انتقال ہوا جو میل نرسنگ شعبہ سے وابستہ تھے۔ خاتون کی درخواست کو حکام نے مسترد کردیا جس پر وہ 2024 میں ہائی کورٹ سے رجوع ہوئیں۔ سنگل جج نے جاریہ سال فروری میں درخواست کو مسترد کرکے کہا کہ فوری معاشی بحران کا سامنا کرنے والے خاندانوں کی فوری مدد کے طور پر ہمدردی کی بنیاد پر تقرر کیا جاتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ماں کی دوسری شادی کے بعد درخواست گذار نے قانونی وارث ہونے سے متعلق جو سیول ڈگری حاصل کی وہ جائیداد کے حقوق کیلئے قابل قبول ہوگی اور اس سے سرکاری ملازمت کا استحقاق حاصل نہیں ہوگا۔ درخواست گذار نے سنگل جج کے فیصلے کو ڈیویژن بنچ پر چیالنج کیا۔ عدالت نے کہا کہ پہلی مرتبہ ٹھوس بنیادوں پر درخواست مسترد کردی گئی لہذا پانچ سال کے وقفہ کے بعد دوبارہ دعوے کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔ 1/F/K