تلنگانہ ، کرناٹک کے علاوہ تمل ناڈو میں لسانی تعصب کا فروغ

   

حیدرآباد میں غیر تلگو داں افراد کو مکان کرایہ پر نہ دینے کی مہم ، ملک کی سالمیت کو خطرہ
حیدرآباد۔ 14۔مارچ(سیاست نیوز) ملک میں جاری لسانی بنیادوں پر تفریق اور متعصبانہ رویہ عوام کے درمیان نفرت کے فروغ کا سبب بننے لگا ہے ۔ہندستان گذشتہ 10 برسوں کے دوران فرقہ وارانہ تعصب کی آگ میں جل رہا تھا اور اب بھی شمالی ہند کی ریاستوں میں فرقہ وارانہ نوعیت کے واقعات پیش آرہے ہیں لیکن اس کے برعکس ہندستان کی کئی ریاستوں میں لسانی بنیادوں پر جاری متعصبانہ رویہ کے واقعات کے باوجود مرکزی حکومت کی جانب سے اختیار کردہ رویہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مرکزی حکومت لسانی بنیادوں پر پیدا ہونے والے اس تعصب کو ہوا دینے کے حق میں ہے اسی لئے وہ مکمل طور پر خاموشی اختیار کر رہی ہے۔ جنوبی ہند کی ریاستوں تلنگانہ ‘ کرناٹک کے علاوہ تمل ناڈو میں یہ لسانی تعصب کی وباء پھیل چکی ہے جبکہ سابق میں ملک کی دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والوں کو نشانہ بنانے کے واقعات صرف مہاراشٹرا میں دیکھے جاتے تھے لیکن اب ہندی کے تسلط کی کوششوں کے خلاف تمل ناڈو میں شروع ہونے والی مہم جو کہ کرناٹک بھی پہنچ چکی تھی اور ایک بینک میں ملازمین کی جانب سے کنڑ کے بجائے ہندی میں کلام کئے جانے پر صارفین نے اعتراض کرتے ہوئے احتجاج کیا جس کے نتیجہ میں کرناٹک میں بھی لسانی تعصب اور مخالف ہندی مہم کا آغاز ہونے لگا ہے اور اب شہر حیدرآباد جو کہ ملک کے میٹروپولیٹین شہروں میں شمار کیا جاتا ہے اس شہر میں بھی اب لسانی تعصب کے واقعات پیش آنے لگے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ شہر حیدرآباد میں کئی اہم علاقوں میں غیر تلگوداں افرادکو مکان کرایہ پر نہ دینے کی مہم چلائی جانے لگی ہے ۔ تلنگانہ بالخصوص شہرحیدرآباد کے بعض علاقوں میں چند برس قبل تک گوشت خور افراد کو مکان یا فلیٹ کرایہ پر دینے سے گریز کیا جاتا تھا اور اس طرح مخصوص طبقہ کو نشانہ بناتے ہوئے شمالی ہند کی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو مکان اور فلیٹ کرایہ پر دینے کو ترجیح دی جاتی تھی لیکن اب اندرون چند برس یہ صورتحال ہوچکی ہے کہ کسی مخصوص طبقہ یا مذہب سے تعلق رکھنے والوں کے بجائے لسانی بنیادوں پر متعصب رویہ اختیار کرتے ہوئے غیر تلگو داں افراد کو مکان کرایہ پر نہ دینے کا فیصلہ کیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ غیر تلگو داں افراد تلگو تہذیب کو نقصان پہنچارہے ہیں اسی لئے شہر حیدرآباد کے پاش علاقوں میں جہاں شمالی ہند کی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے ہندی داں طبقہ کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہونے لگا ہے ان علاقوں میں اب غیر تلگو داں افراد کو مکان کرایہ پر نہ دینے کی مہم شروع ہوئی ہے جو کہ ہندستان کی سالمیت کیلئے خطرہ ہے ۔3