تلنگانہ اراضیات اسکام میں کے سی آر خاندان ملوث، 30 فیصد کمیشن

   

رنگا ریڈی میں 1000 کروڑ کی بھودان اراضی فروخت، تحقیقات کیلئے صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی کا مطالبہ
حیدرآباد ۔12 ۔ جون (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے رنگا ریڈی ضلع کے تماپور موضع میں 140 ایکر بھودان اراضی کو دھرانی پورٹل سے خارج کرتے ہوئے رئیل اسٹیٹ تاجروں کو فروخت کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے چیف منسٹر کے سی آر سے اس معاملہ کی جانچ کا مطالبہ کیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کندکور منڈل کے تحت 140 ایکر بھودان اراضی کو فروخت سے ممنوعہ فہرست میں شامل کرنے سے متعلق دستاویزات جاری کئے۔ انہوں نے بھودان اراضی کا مکمل ریکارڈ اور مرکزی وزیر کشن ریڈی کی جانب سے ضلع کلکٹر کو روانہ کردہ مکتوب بھی میڈیا کو جاری کیا ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک ہزار کروڑ مالیتی اس اراضی میں چیف منسٹر کے فرزند کے ٹی آر کو 30 فیصد کمیشن حاصل ہوا ہے ۔ انہوں نے تلنگانہ میں اراضیات کے اسکام میں کے سی آر خاندان کے ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس برسر اقتدار آنے پر کے سی آر اور ان کے خاندان کو چیرلا پلی جیل میں ڈبل بیڈروم مکان میں رکھا جائے گا ۔ انہوں نے رنگا ریڈی ، میڑچل اور سنگا ریڈی اضلاع میں اراضیات کی فروخت کے اسکام کی کانگریس برسر اقتدار آنے پر تحقیقات کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی برسر اقتدار آتے ہی موجودہ دھرانی پورٹل کو برخواست کرتے ہوئے عصری ٹکنالوجی کے ساتھ نیا سسٹم متعارف کرے گی جس کے ذریعہ اراضیات کے ریکارڈ کا تحفظ ہوگا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ دھرانی پورٹل کے نام پر بھودان اور دیگر اراضیات کے ریکارڈ کو حذف کرتے ہوئے رئیل اسٹیٹ تاجروں کو فروخت کیا جارہا ہے ۔ تلنگانہ میں کے سی آر خاندان 30 فیصد کمیشن حاصل کرتے ہوئے اسکام میں ملوث ہے۔ ریونت ریڈی نے بتایا کہ رنگا ریڈی ضلع میں جملہ 23000 ایکر بھودان اراضی ہے۔ تما پور مرکزی وزیر کشن ریڈی کا آبائی گاؤں ہے اور انہوں نے رکن اسمبلی کی حیثیت سے سابق میں کلکٹر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے بھودان اراضی کے تحفظ کا مطالبہ کیا تھا ۔ کانگریس دور حکومت میں ریونیو ریکارڈ کے تحت ممنوعہ اراضیات کی فہرست تیار کی گئی جس میں بھودان اراضی بھی شامل تھی۔ 2020 ء میں دھرانی پورٹل متعارف کرنے کے بعد 2021 ء میں تماپور کی بھودان اراضی کو خانگی اراضی ظاہر کرتے ہوئے فروخت کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے اس معاملہ پر کشن ریڈی سے وضاحت کرنے اور سنٹرل ویجلنس کمیشن کے ذریعہ کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت ریکارڈ میں تحریف کرنے والے ضلع کلکٹر کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اراضیات اسکام کو جاری رکھنے کے لئے کے سی آر دھرانی پورٹل کی تائید کر رہے ہیں اور کسانوں کو رعیتو بندھو اور رعیتو بیمہ اسکیمات سے محرومی کا خوف دلایا جارہا ہے۔ر